ایف بی آر کا ٹک ٹاکرز اور انفلوئنسرز پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ
ایف بی آر کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے ٹک ٹاکرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کا خطرناک ترین قیدی 46 سال بعد ’شیشے کے پنجرے‘ سے باہر آ گیا ، 17 ہزار دن قید تنہائی میں گزارنے کا ریکارڈ بنا دیا۔
سوشل میڈیا پر زندگی کا مظاہرہ
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق، ایف بی آر کا یہ اقدام اُن افراد کو نشانہ بنائے گا جو اپنی عالی شان زندگی اور دولت کا مظاہرہ سوشل میڈیا پر کرتے ہیں تاکہ ان کی آمدنی اور اخراجات کو ٹیکس ریٹرن کے مطابق پرکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی واقعات پر مزید کچھ لوگوں کے فیصلے ایک دو دن میں ہوں گے: رانا ثنااللہ
ڈیٹا جمع کرنا
ایف بی آر نے حال ہی میں ایک لاکھ افراد کا ڈیٹا جمع کیا ہے جو سوشل میڈیا پر شاہانہ طرز زندگی دکھاتے ہیں۔ ریونیو اتھارٹی نے ڈیجیٹل کانٹیٹ کری ایٹرز اور انفلوئنسرز کو ممکنہ ٹیکس ریونیو کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پرانے منشی نے میری کارکردگی دیکھتے ہوئے کہا علیٰحدہ آفس قائم کریں میں آپ کو بہت سارے کیس لا کے دوں گا، اکیلے کام کرنے کا تجربہ بھی ٹھیک رہا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بحث
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے اجلاس میں سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ سب سے زیادہ ٹیکس پنجاب سے اکٹھا ہونے کی توقع ہے کیونکہ وہاں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس اجلاس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کی 22 سالہ طالبہ کا مبینہ قاتل گرفتار
مہنگے طرز زندگی کا ٹارگٹ
ایف بی آر کے مطابق، اس اقدام کے تحت ان انفلوئنسرز کو ٹارگٹ کیا جائے گا جو سوشل میڈیا پر اپنی مہنگی گاڑیوں، بنگلوں، برانڈڈ کپڑوں اور زیورات کی نمائش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی وزیردفاع میڈیا پر برس پڑے
آڈٹ پلان
آڈٹ پلان کے تحت، ایف بی آر گزشتہ سال کے ٹیکس ریٹرنز کا موجودہ سال سے تقابل کرے گا تاکہ آمدن اور اخراجات میں بے ضابطگیاں واضح کی جا سکیں۔ جو افراد درست اور تازہ ترین ٹیکس ریٹرنز جمع کروائیں گے، وہ اس کارروائی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
ڈیجیٹل معیشت کا باقاعدہ کرنا
ایف بی آر کے مطابق، یہ فیصلہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو باضابطہ بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ماہرین نے اس اقدام کو منصفانہ قرار دیا ہے تاکہ انفلوئرسرز بھی ٹیکس نظام میں اپنا حصہ ڈالیں۔








