ایف بی آر کا ٹک ٹاکرز اور انفلوئنسرز پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ
ایف بی آر کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے ٹک ٹاکرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پرائم منسٹر الیکٹرک بائیک اور رکشہ اسکیم 2026 کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ، حکومت کی جانب سے فی موٹر سائیکل پر80ہزار اور الیکٹرک رکشے پر 4لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی
سوشل میڈیا پر زندگی کا مظاہرہ
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق، ایف بی آر کا یہ اقدام اُن افراد کو نشانہ بنائے گا جو اپنی عالی شان زندگی اور دولت کا مظاہرہ سوشل میڈیا پر کرتے ہیں تاکہ ان کی آمدنی اور اخراجات کو ٹیکس ریٹرن کے مطابق پرکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: نیا سال، نئی امید اور اپنے آپ کو سنوارنے کا بہترین موقع ہے: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل
ڈیٹا جمع کرنا
ایف بی آر نے حال ہی میں ایک لاکھ افراد کا ڈیٹا جمع کیا ہے جو سوشل میڈیا پر شاہانہ طرز زندگی دکھاتے ہیں۔ ریونیو اتھارٹی نے ڈیجیٹل کانٹیٹ کری ایٹرز اور انفلوئنسرز کو ممکنہ ٹیکس ریونیو کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی محتسب کا بڑا فیصلہ، بچے کی پیدائش پر والد کو بھی ایک ماہ کی چھٹی دینا لازم قرار
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بحث
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے اجلاس میں سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ سب سے زیادہ ٹیکس پنجاب سے اکٹھا ہونے کی توقع ہے کیونکہ وہاں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس اجلاس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: امداد براہِ راست مستحق خاندانوں تک پہنچانے کی کاوش، کارگو کریو کی جانب سے کراچی میں 110 خاندانوں میں رمضان افطار راشن بیگز کی تقسیم
مہنگے طرز زندگی کا ٹارگٹ
ایف بی آر کے مطابق، اس اقدام کے تحت ان انفلوئنسرز کو ٹارگٹ کیا جائے گا جو سوشل میڈیا پر اپنی مہنگی گاڑیوں، بنگلوں، برانڈڈ کپڑوں اور زیورات کی نمائش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہم کائنیٹک حملے کا دفاع کرلیں گے، معیشت کا کیا ہوگا؟ مفتاح اسماعیل کا استفسار
آڈٹ پلان
آڈٹ پلان کے تحت، ایف بی آر گزشتہ سال کے ٹیکس ریٹرنز کا موجودہ سال سے تقابل کرے گا تاکہ آمدن اور اخراجات میں بے ضابطگیاں واضح کی جا سکیں۔ جو افراد درست اور تازہ ترین ٹیکس ریٹرنز جمع کروائیں گے، وہ اس کارروائی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
ڈیجیٹل معیشت کا باقاعدہ کرنا
ایف بی آر کے مطابق، یہ فیصلہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو باضابطہ بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ماہرین نے اس اقدام کو منصفانہ قرار دیا ہے تاکہ انفلوئرسرز بھی ٹیکس نظام میں اپنا حصہ ڈالیں۔








