وزیراعظم نے خود وفد کا حصہ بنایا، ڈاکٹر شمع جونیجو کا وضاحتی بیان
وضاحتی بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈاکٹر شمع جونیجو نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ وہ کئی مہینوں سے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور حکومت پاکستان کے لیے بطور ایڈوائزر کام کر رہی ہیں۔ پاک بھارت کشیدگی کے دوران اُن کے تیار کردہ پالیسی بریفس، ایڈوائنس اور پوائنٹس ریکارڈ کا حصہ ہیں اور محفوظ کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے شہر بندر عباس کی پورٹ پر دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 25 ہوگئی
اقوام متحدہ کے خطاب کا حصہ
ڈاکٹر شمع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب لکھنے کا ٹاسک دیا اور باقاعدہ طور پر وفد کا حصہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے ان کا سیکیورٹی پاس بھی بطور ایڈوائزر جاری کیا گیا۔ انہوں نے وزیراعظم اور ٹیم کے ساتھ سفر کیا، ایک ہی ہوٹل میں قیام کیا اور بِل گیٹس سمیت اہم ترین سائیڈ لائین میٹنگز کا حصہ بھی بنیں جن کی فوٹیج میڈیا پر موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدے کی منسوخی کے اعلان کے خلاف سیاسی رہنما اور قانونی ماہرین یک زبان
کانفرنسوں میں شرکت
انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ کلائیمیٹ کانفرنس میں وہ وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے پیچھے موجود تھیں جہاں وزارتِ خزانہ نے ان کے بارے میں متنازع ٹویٹ کیا۔ اسی طرح اے آئی کانفرنس میں بھی وہ پروٹوکول ٹیم کے ہمراہ شریک رہیں، جہاں وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر ٹیم ممبران کے ساتھ نہ صرف شریکِ گفتگو رہیں بلکہ تقاریر کی تیاری میں بھی شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی میں ابھیشیک شرما نے 28گیندوں پر سنچری مار دی
تاریخی خطاب کی تحریر
ڈاکٹر شمع نے کہا کہ وزیراعظم کے تاریخی خطاب میں ان کی تحریری محنت اور ٹیم ورک شامل تھا، جسے دنیا نے سراہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی واپسی کی فلائیٹ پہلے سے طے شدہ تھی اور انہیں ایئرپورٹ تک مشن پروٹوکول کے اہلکاروں نے خود ڈراپ کیا۔
وزیر دفاع کے بیانات پر سوالات
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف ایسے بیانات کیوں دے رہے ہیں جن سے حکومتِ پاکستان کے تاریخی دورے پر سوال اٹھتے ہیں۔ ڈاکٹر شمع جونیجو کا کہنا تھا "اس معاملے میں وزیراعظم صاحب کو اُن سے پوچھنا چاہیئے، کیونکہ اُن کی اتھارٹی چیلنج ہوئی ہے، میری نہیں ۔"








