پاکستانی میڈیکل طالبعلم کا ایس سی او فورم میں مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ روایتی طب کا تجربہ
روایتی طب فورم کا آغاز
نان چھانگ(شِنہوا) میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی روایتی طب فورم میں روایتی چینی ادویات (ٹی سی ایم) کے پویلین میں ہدایت دی گئی کہ ’’اپنا چہرہ آلے کی طرف کریں اور زبان باہر نکالیں‘‘۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے وفد کا اسکانکم کا دورہ، پاکستان سے تربیت یافتہ افرادی قوت کے حوالے سے گفتگو
طالبعلم عبداللہ حسیب کا تجربہ
پاکستان سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی طالبعلم عبداللہ حسیب ایک کیپسول نما آلے کے سامنے جھکے جہاں چمکتی ہوئی روشنیوں نے اشارہ دیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام ان کے چہرے اور زبان کے ڈیٹا کا تجزیہ کر رہا ہے۔ یہ ان کا ٹی سی ایم اور اے آئی کا پہلا عملی تجربہ تھا۔
حسیب نے پرجوش انداز میں کہا کہ "یہ تو بالکل سائنس فکشن فلم جیسا ہے!"۔ وہ چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی کی نان چھانگ یونیورسٹی کے میڈیکل پوسٹ گریجویٹ طالبعلم ہیں جو اس اعلیٰ سطح کے فورم میں شرکت کے لئے خاص طور پر آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف کا پشاور اور کوئٹہ میں جلسہ کرنے کا فیصلہ
ہمارے جسم کی پہچان
حسیب نے نبض ناپنے والے ایک آلے کے پاس اپنی بائیں کلائی آگے بڑھائی۔ ایک چاندی نما سینسر نے نرمی سے چھوا اور ان کی نبض کا ڈیٹا فوری طور پر سکرین پر ظاہر ہوگیا۔ انہوں نے متحرک خاکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "دیکھیں یہ میری نبض کی لہریں ہیں"۔ یہ ٹی سی ایم کو ایک مترجم دینے جیسا ہے جس سے غیر محسوس نبض بصری ڈیٹا میں تبدیل ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا
خودکار فارمیسی کی ترقی
عملے نے بتایا کہ یہ نظام 100 سے زائد جسمانی اقسام کی شناخت کرسکتا ہے۔ اے آئی نے علامات کی تشخیص اور علاج کے لئے ایک ذہین ماڈل تیار کیا ہے۔ جب نسخہ تیار ہوتا ہے تو ایک خودکار فارمیسی صرف 20 سیکنڈ میں 99.97 فیصد درستگی کے ساتھ جڑی بوٹیاں فراہم کر دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کے کرنل کا اپنے اعلیٰ افسران پر اہلیہ سے زیادتی کا الزام
قہوے کی نئی ٹیکنالوجی
جڑی بوٹیوں کے قہوے کے زون میں تو ٹیکنالوجی کی اور بھی بلند سطح دیکھنے کو ملی۔ 60 سمارٹ ڈیکوکشن برتن اے آئی کے کنٹرول میں حرارت کو ایڈجسٹ کرتے ہیں جبکہ 6 مشینیں ایک ساتھ قہوہ پیک کرتی ہیں۔
حسیب نے مائع کو بند پائپوں سے ویکیوم پیک میں جانے کا مشاہدہ کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے قہوہ تیار کرنے کے لئے گھنٹوں نگرانی کرنی پڑتی تھی لیکن اب پورا عمل خودکار ہے۔ ہر بیچ کے اجزاء میں فرق 5 فیصد کے اندر رہتا ہے جو انسانی ہاتھ سے ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 2003 سے 5 مئی 2025 تک، دو دہائیوں کے بعد اسکائپ کو بند کردیا گیا
شفافیت اور معیاری میڈیسن
حسیب نے ایک ٹریس ایبلٹی پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے کہا کہ "اچھی دوا اچھی جڑی بوٹیوں پر منحصر ہے"۔ انہوں نے اسٹراگلس روٹ کے نمونے کی تفصیلات بہت بڑھی کرکے دیکھیں۔ مٹی کا پی ایچ، بارش کا ریکارڈ اور کٹائی کی تاریخ سب کچھ واضح تھا۔ یہ مریضوں کے معیار سے متعلق خدشات کو ختم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے طرز سیاست سے لگتا ہے عمران خان کی رہائی کی بجائے وہ اپنی حکومت کا تیاپانچاکروا لیں گے،سلمان غنی
گلوبل ترویج اور تعلیمی مواقع
ایسی شفافیت ٹی سی ایم کی عالمی سطح پر پہنچ کے لئے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ گان جیانگ چائنیز میڈیسن انوویشن سنٹر کے نائب ڈائریکٹر شو چھنگ نے بتایا کہ ان کی ٹیم 9 بڑے ڈیٹابیس بنا رہی ہے اور اے آئی کے ذریعے جڑی بوٹیوں کے اجزا کو ’’ڈیکوڈ‘‘ کرنے پر کام کر رہی ہے۔
چین کے قومی صحت کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ٹی سی ایم اب 196 ممالک اور خطوں میں پھیل چکی ہے۔ جیانگشی یونیورسٹی آف ٹی سی ایم نے 3 ہزار سے زائد بین الاقوامی طلباء کو ٹی سی ایم کی ڈگری کی تعلیم دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 2025-26، سپر ٹیکس میں کتنی کمی کی تجویز ہے؟ بجٹ دستاویز سامنے آ گئیں
پاکستان اور چین کا طبی ربط
حسیب نے ذہین مشین کے تیار کردہ قہوے کا پیکٹ تھامے ہوئے کہا کہ "چین واقعی ٹی سی ایم کی تعلیم میں رہنما ہے"۔ آج میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جدید ٹیکنالوجی کس طرح روایتی چینی طب کو ایسی زبان دیتی ہے جو دنیا سمجھ سکتی ہے۔ پاکستان کے پاس بھی جڑی بوٹیوں کے بھرپور وسائل ہیں اور باہمی تعاون کی زبردست گنجائش موجود ہے۔
اختتامی غور و فکر
دریائے گان جیانگ کے کنارے جنم لینے والی یہ اختراعات اب ایس سی او کے پلیٹ فارم سے دنیا تک پہنچ رہی ہیں۔








