حیرت ہے 34 سال بعد ڈگری منسوخ کی گئی، جسٹس طارق جہانگیری
عدالت میں صحافی کا سوال
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سپریم کورٹ میں صحافی کے سوال پر کہا کہ حیرت کی بات ہے 34 سال بعد ڈگری منسوخ کر رہے ہیں، دنیا کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری افسران اپنے اثاثے ظاہر کریں گے، سول سروس ایکٹ میں ترمیم کا بل سینیٹ میں متفقہ طور پر منظور
درخواست کی سماعت سے پہلے سوال
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت عظمیٰ میں درخواست پر سماعت سے قبل صحافی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری سے مبینہ جعلی ڈگری سے متعلق سوال کیا۔
صحافی نے سوال کیا کہ کراچی یونیورسٹی نے آپ کی ڈگری منسوخ کر دی، کیا عدالت جائیں گے؟ جس پر جسٹس جہانگیری نے جواب دیا کہ سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیکسٹی کے بالکل سامنے! تاریخ کے سستے ترین اپارٹمنٹ، صرف 38 لاکھ میں، 4 سال کی اقساط، سود کے بغیر
سپریم کورٹ کا حکم
بعدازاں، سپریم کورٹ نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق جہانگیری کو کام سے روکنے کا حکم نامہ معطل کر دیا۔
سماعت کے اختتام پر جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل کے درمیان مشاورت ہوئی، ججز کی مشاورت کے بعد سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم نامہ معطل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے میدانی علاقوں میں شدید سموگ اور دھند کے باعث موٹر وے بند
نوٹس اور سماعت کی ملتوی
عدالت نے فریقین اور اٹارنی جنرل دفتر کو نوٹس جاری کر دیا، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کردیا اور کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات کی ملک کے مختلف علاقوں میں آج اور کل بارش کی پیشگوئی
جعلی ڈگری کا معاملہ
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی سربراہی میں بینچ نے جسٹس طارق جہانگیری کو جوڈیشل ورک سے روکا تھا، مبینہ جعلی ڈگری کے معاملے پر ایڈووکیٹ میاں داؤد کی درخواست زیر التوا ہے۔
کراچی یونیورسٹی کی کاروائی
واضح رہے کہ 26 ستمبر کو کراچی یونیورسٹی جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی ڈگری منسوخ کر دی تھی۔








