عوام کو الیکٹرک بائیکس، رکشے اور لوڈر فراہم کرنے کیلئے سکیم متعارف
سٹیٹ بینک کی نئی سکیم
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سٹیٹ بینک نے الیکٹرک موٹرسائیکل، رکشے اور لوڈر فراہم کرنے کے لیے ایک نئی سکیم متعارف کرائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یورو کرنسی اپنانے کا اعلان، بلغاریہ کی پارلیمنٹ میدانِ جنگ بن گئی
سکیم کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سٹیٹ بینک کے مطابق سکیم کی گاڑیاں 2 مرحلوں میں فراہم کی جائیں گی، جس کے تحت ایک لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس، 3170 رکشے اور لوڈرز فراہم کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: حقائق پر مبنی معلومات کی فراہمی کے لیے ڈی جی پی آر میں خصوصی کنٹرول روم قائم کردیا: عظمیٰ بخاری
قرض کی مقدار
سٹیٹ بینک حکام کا بتانا ہے کہ ای بائیکس کے لیے 2 لاکھ روپے کا قرض فراہم کیا جائے گا، جبکہ الیکٹرانک رکشے اور لوڈرز کے لیے 8 لاکھ 80 ہزار روپے کا قرض دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں گزشتہ سالوں کی نسبت رواں سال زیادہ گرمی پڑنے کی پیشگوئی
پہلا اور دوسرا مرحلہ
سٹیٹ بینک کے مطابق پہلے مرحلے میں 40 ہزار ای بائیکس، ایک ہزار ای رکشے اور لوڈرز فراہم کیے جائیں گے، جب کہ دوسرے مرحلے میں 76 ہزار ای بائیکس، 2171 رکشے اور لوڈرز دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا خراب پڑوسیوں کے تعلقات بھارت کو افغان طالبان کی طرف دھکیل رہے ہیں؟
قرض کی شرائط
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ ای بائیکس کا قرض 2 سال کے لیے اور ای رکشہ کا قرض 3 سال کے لیے ہوگا۔ قرض کی پرائسنگ اسلامی اور روایتی بینکوں کے لیے کائیبور پلس 2.75 فیصد پر ہوگی، جب کہ صارف کو قرض صفر فیصد مارک پر ملے گا۔
خصوصی سہولیات
سٹیٹ بینک حکام نے مزید بتایا کہ 25 فیصد ای بائیکس خواتین کو فراہم کی جائیں گی، 10 فیصد ای بائیکس کاروبار کرنے والے افراد اور کوریئرز کو فراہم ہوں گی، جبکہ فلیٹ آپریٹرز کو 30 فیصد رکشے اور لوڈرز فراہم کیے جائیں گے۔








