سچ اور حقیقت کوئی سننا ہی نہیں چاہتا،عجیب سوچ ہے ہم لوگوں کی۔وہ اندر باہر سے ایک جیسی،منہ پر ایسی سچ بات کہہ جاتیں جو سننے والے کو ناگوار گزر تی۔
ابتدائی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 304
یہ بھی پڑھیں: جعفر ایکسپریس سروس چند روز کیلئے منسوخ
بیگم شاہین کی خصوصیات
ہم سب شرمندہ ہو گئے۔ بیگم شاہین روکی جیپ چلاتی تھیں اور اپنے بھاری بھر کم جسم کے ساتھ جمپ لگا کر اس میں سوار ہوتیں۔ وہ سمجھ دار، خاندانی اور پڑھی لکھی خاتون تھیں۔ اندر باہر سے ایک جیسی۔ منہ پر ایسی سچ بات کہہ دیتی تھیں جو سننے والے کو ناگوار گزرتی۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ میں قائدِ ایوان کی 6 سال میں سب سے کم 28 فیصد حاضری رہی: پلڈاٹ
شاہین صاحبہ کا واقعہ
ایک روز میں اور مشہود اسمبلی گیلری میں کھڑے ان سے بات کر رہے تھے تو خاتون ایم پی اے شازیہ چاند (انہیں بھی اداکارہ میرا کی طرح انگریزی بولنے کا بہت شوق تھا۔ ان کی انگریزی بہرحال میرا سے بہت بہتر تھی۔ ان کو بھی ایم پی اے بنانے میں صرف ان کی خوبصورتی کا ہی دخل تھا) آ گئی۔ شازیہ چاند نے ہمارے بارے ذو معنی فقرہ کہا۔ سن کر شاہین صاحبہ نے ایسا جواب دیا کہ ہم دونوں بھی کانوں کو ہاتھ لگاتے وہاں سے بھاگ گئے تھے۔ بڑے باپ کی بیٹی ہونے کے باوجود وہ سادہ اور باعمل خاتون تھیں۔ (ان کے والد لیفٹنٹ جنرل عتیق الرحمان پنجاب کے گورنر اور بعد میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئر مین بھی رہے۔ پڑھے لکھے اور نواب انسان تھے.)
یہ بھی پڑھیں: خواتین کی خفیہ ویڈیوز بنانے والا ہسپتال کا سی سی ٹی وی آپریٹر گرفتار
صغریٰ امام کی شخصیت
صغریٰ امام کا تعلق پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ان خاندانوں سے ہے جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ (وہ بیگم عابدہ حسین (جھنگ) اور فخر امام (خانیوال) کی صاحبزادی اور سید بابر (پیکیجز ار اور لمز کے مالک) کی نواسی تھیں۔ امریکہ سے تعلیم یافتہ مگر اپنی مادری 'سرائیکی' زبان پر ملکہ رکھتی تھیں۔ سمجھ کم آنے کے باوجود میں اور مشہود ان سے سرائیکی بولنے ہی کی فرمائش کرتے جو ان کی زبان سے دل میں اتر جاتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے 21 ویں گریڈ کے افسر نے آئی جی بلوچستان بننے سے معذرت کرلی سورس: ڈان اخبار کا دعویٰ
چائے کی دعوت
ایک روز انہوں نے مشہود کو اپنے گھر سید مراتب علی روڈ گلبرگ چائے پر مدعو کیا۔ میرے مشورہ پر مشہود ان کے لئے 20 درجن کے قریب پھول لے گیا۔ پھولوں کو دیکھ کر بولیں؛ "مشہود صاحب! آپ نے میرا گھر مہکا دیا ہے۔" وہ شاید نہیں جانتی تھیں کہ مشہود کے دل کا گھر وہ کب سے مہکا اور سجا چکی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ 9 مئی: حلیم عادل، خرم شیر زمان ودیگر پر فرد جرم عائد
وزارتی تجربہ
تھوڑی دیر کے لئے وہ محکمہ سوشل ویلفئیر پنجاب کی وزیر بھی رہیں لیکن جلد ہی مستعفی ہو گئیں کہ جو کام میں کرنا چاہتی ہوں حکومت کرنے نہیں دیتی اور جو یہ چاہتے ہیں میں کر نہیں سکتی۔ بے اختیار وزارت سے با اختیار آزادی بہتر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلے سرکاری آٹزم اسکول میں داخلے کا آغاز، داخلہ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 10 دسمبر مقرر
سماجی خیالات
بدقسمتی سے ہم ایسی باتیں کہنا اور سننا پسند کرتے ہیں جو ہمارے من کو اچھی لگیں۔ سچ اور حقیقت کوئی سننا ہی نہیں چاہتا۔ عجیب سوچ ہے ہم لوگوں کی۔ بعد میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سینٹ آف پاکستان کی رکن بھی رہی تھیں۔ مدت ہوئی ان سے دوبارہ ملاقات نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمپلیکس حملے میں 8 کلو تک بارودی مواد اور بال بیرنگز استعمال کئے گئے، آئی جی اسلام آباد
نیشنل ہارس اینڈ کیٹل شو
1974ء میں خود نیشنل ہورس اینڈ کیٹل شو میں حصہ لینے آیا تو نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ 1994/95 میں اس کی انتظامی کمیٹی کی طرف سے لگائی گئی گیٹ ڈیوٹی پر مامور تھا تب پراجیکٹ منیجر تھا اور اب عرصہ بعد 2004/05 میں حکومت پنجاب نے نیشنل ہورس اینڈ کیٹل شو منعقد کرنے کا فیصلہ تو میری پوزیشن باس کی سی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عام لوگ حقیقت نہیں جانتے، ڈکی اور عروب ایسی ذہنی حالت میں نہیں ہیں کہ لوگوں سے مل سکیں، اقرا کنول
دوستوں کی یادیں
میرے بہت سے کولیگز اس ایونٹ میں شاندار کارکردگی دکھاتے آئے تھے جن میں اختر نواز، انجم شکیل، ملک مظفر رانا نسیم اور ذوالفقار حیدر (سبھی محنتی، بہترین افسر اور اچھے دوست تھے۔) قابل ذکر ہیں۔ سبھی سے آج بھی رابطہ رہتا ہے.
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








