چین اب بدل چکا ہے، 14 سال پہلے جب آیا تو بالکل مختلف تھا: آصف زرداری
اسلام آباد میں صدر مملکت کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ چین اب بدل چکا ہے 14 سال پہلے جب آیا تو بالکل مختلف تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکپتن میں بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ،عوام پکڑ دھکڑ اور مقدمات سے نالاں ہیں : سماجی حلقے
چین کا دورہ اور تعلقات کی مضبوطی
روزنامہ جنگ کے مطابق چینی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب کو ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا، 16 سے 17 مرتبہ چین کا دورہ کر چکا ہوں، ہر بار اپنائیت ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سری لنکن ایئر پورٹ پر خاتون کے سامان میں رکھے 3 کھلونوں سے ایسی چیز برآمد کہ ہنگامہ برپا ہوگیا
چین کی معیشت کی ترقی
آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ چین کی معیشت مضبوط ہوئی، عوام خوشحال اور مطمئن ہیں، چین کے میرے دورے ہمیشہ خیرسگالی کے لیے ہوتے ہیں، چین کا مستقبل تابناک ہے، پورا مشرق اس کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ اعجاز سرور کی یاد میں انفارمیشن سروسز اکیڈمی اسلام آباد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد
معاشی ترقی اور امن
انہوں نے کہا کہ جنگوں کا نہیں معاشی ترقی کا سوچنا ہوگا، پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتے ہیں، ترقی کا حق سب کا ہے، چین کے ساتھ ہمارا تعاون اب خلا تک پہنچ چکا ہے، زرعی شعبے میں چین کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بیت الرحمت، ایک دعا کی تعبیر
زرعی خودکفائیت کی ضرورت
ان کا کہنا تھا کہ ہم ہر طرح کے حالات میں چین کے ساتھ کھڑے ہیں، زرعی شعبے میں خودکفیل ہونا ہے تاکہ اپنے مستقبل کو محفوظ بناسکیں، پانی کی بچت اور مؤثر استعمال کے لیے آب پاشی کے جدید طریقوں کو اپنانا ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے تحریک انصاف کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا، نجی ٹی وی کا دعویٰ
مواقع اور باہمی تعلقات
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں، پانی کے انتظام، آفات کی روک تھام اور جدید زرعی ٹیکنالوجی میں تعاون کا فروغ وقت کا تقاضہ ہے، ہمارا جغرافیائی محل وقوع باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے: سپریم کورٹ میں پیش رپورٹ میں انکشاف
آنے والی نسلوں کی خود انحصاری
آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ آئندہ نسلوں کو بارہ کرانا ہے کہ اپنے وسائل کے بہتر استعمال سے خود انحصاری حاصل کرسکتے ہیں، چین اور پاکستان آہنی بھائی ہیں جن کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہے، چین نے ٹیکنالوجی میں جدت اور محنت کے بل بوتے پر دنیا میں مقام بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان میں دوسرے روز بھی دفعہ 144 نافذ
سی پیک اور توانائی کے منصوبے
انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیف شپ منصوبہ ہے، پاکستان کی بندرگاہیں چین کے لیے قریب ترین بندرگاہوں میں سے ہیں، سی پیک کی کامیابی سے پورا خط ترقی کرے گا اور روابط مضبوط ہوں گے۔
قابل تجدید توانائی کے منصوبے
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین کے پاس شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا وسیع تجربہ ہے، پاکستان چین کے تعاون سے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر بھی کام ہو رہا ہے، ریلوے کے شعبے میں بھی چین کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔








