جیب میں پیسے ہوں، خریدنے کا ڈھنگ آتا ہو، دماغ کے کسی خانے میں عقل بھی ہو تو یہ ملک ایسے لوگوں کے لیے جنت ہے، پراپرٹی ٹائیکون سے ملاقاتیں ہوئیں
مصنف اور قسط کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 320
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی آج غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد پر ووٹنگ کرے گی
پراپرٹی ٹائیکون کے اثرات
وہ واحد شخص تھے جو ایک پراپرٹی ٹائیکون کے نیٹ ورک میں نہیں آئے۔ انہوں نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس کو 2 کنال کا پلاٹ تحفے میں دیا اور کئی شاملاٹ دیہات کو اپنے ٹاؤن میں شامل کر لیا۔ ان کے پاس اگر پیسے ہوں، خریداری کا طریقہ معلوم ہو اور عقل بھی ہو تو یہ ملک ان لوگوں کے لئے جنت کی مانند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا اجلاس، صدر زرداری، نواز شریف اور وزیراعظم کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز
پراپرٹی کی خریداری کا تجربہ
ان کے ٹاؤن میں 10 مرلے کا پلاٹ خریدنے کی کوشش کی تھی، چند اقساط بھی ادا کی۔ مگر پھر ماہانہ قسطوں کی رقم کی کمی نے مسئلہ پیدا کر دیا، جسے صاحب نے پراپرٹی ٹائیکون کو بتا کر حل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: کیا چین بھارت کا پانی روک سکتا ہے؟ انڈس واٹر ٹریٹی معطل کر کے بھارت پاکستان کو کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے؟ پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟ وہ باتیں جو لوگوں کو معلوم نہیں
خاندانی محفلیں
صاحب کو گھر کے پکے کھانے پسند تھے۔ دوپہر کے وقت پورا خاندان کھانے کے لئے اکٹھا ہوتا، جبکہ رات کے وقت کئی بار صرف صاحب اور میں کھانا کھاتے تھے۔ وہ ایک بہترین میزبان تھے اور بارہا کھانا میری اور مشہود کی پلیٹ میں ڈال دیتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: عافیہ صدیقی کیس: وزیراعظم کے امریکا کو لکھے خط کا جواب نہ آنے کا کیا مطلب سمجھیں؟ عدالت
اسلام آباد کی سیر
صاحب صبح 10 بجے سے دوپہر 12 بجے تک اپنے حلقے کے لوگوں کے مسائل سنتے۔ شام کو اکثر اسلام آباد کا سفر ہوتا۔ کبھی کبھی ہم دونوں حکومت کے کاموں پر چلتے تھے، اور وہ خود ہی گاڑی چلاتے تھے۔ ان کے دوست کرنل انور، شیخ غوث اور کیانی صاحب ہمارے ساتھ گپ شپ لگاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: 0
دوستوں کی محرومیاں
بدقسمتی سے، میں نے صاحب کو دونوں دوستوں کی موت کی افسوسناک خبر دی۔ وہ ان کی کمی کو آج بھی محسوس کرتے ہیں۔ دونوں مجھ سے اور مشہود سے بہت محبت رکھتے تھے اور خاص طور پر کھانے کے شوقین تھے۔ نمکین گوشت کی کڑاہی ان کی پسندیدہ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ سکسز فائنل: کویت کا پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
سرکاری کھانے کی عادات
صاحب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جو کھانا وہ اپنے لیے منگواتے، وہی دفتری عملے کے لئے بھی آتا تھا، جیسا کہ خاندان کے لوگ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، تنویر کائرہ جو وزیر خزانہ پنجاب تھے، وہ سرکاری کھانے کا استعمال کر کے اکیلے ہی کھاتے تھے۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








