بنگلہ دیش کے عوامی حلقوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی سوانح حیات کو قومی نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا

بنگلہ دیش میں قائداعظم کی سوانح حیات کی اہمیت

لاہور (طیبہ بخاری سے) بنگلہ دیش کے عوامی حلقوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی سوانح حیات کو قومی نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: انسداد دہشتگردی عدالت لاہور کا شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے دو مقدمات میں رہائی کا حکم

قائداعظم کی قیادت پر خراج تحسین

تفصیلات کے مطابق، بنگلہ دیش کے عوام نے آزادی اور خود مختاری کیلیے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی عظیم قیادت اور ان کے وژن کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ججز کے لیے مختص کراکری استعمال کرنے پر ججز ریسٹ ہاؤس کے عملے کو کارروائی کا سامنا

خصوصی تقریب کا انعقاد

ڈھاکہ میں بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی عظیم قیادت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں سیاسی و سماجی حلقوں، دانشوروں، اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے قائد اعظمؒ کو ’’ملت کا رہنما‘‘ قرار دیا اور ان کی شخصیت کو ’’وحدت، ایمان اور تنظیم‘‘ کے علمبردار کے طور پر پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: بارش میں کرنٹ لگنے سے باپ بیٹے کی ہلاکت، کے الیکٹرک کو 5 کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم

ثقافتی اظہار

بنگلہ دیشی طلباء نے اپنے جذبات کا اظہار اردو میں کیا اور قائد اعظمؒ کی شان میں نغمات پیش کیے، جس نے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔

یہ بھی پڑھیں: قربانی کا ایک جانور، قیمت 1.5 کروڑ روپے

شاعری اور تاریخی پس منظر

تقریب میں ایک بنگالی شاعر نے قائد اعظمؒ کی شان میں نظم پڑھی، جبکہ مقررین نے کہا کہ اگر قائداعظمؒ کا وژن نہ ہوتا تو بنگلہ دیش آج بھی اَکھنڈ بھارت کا حصہ ہوتا، جہاں نہ تو گائے کا گوشت کھانے کی آزادی ہوتی اور نہ ہی عبادات کی ادائیگی ممکن ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں سردی کی شدید لہر جاری، ہنزہ میں پارہ منفی 20 ڈگری ریکارڈ

تعلیمی نصاب میں شمولیت کی درخواست

بنگلہ دیش کے عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی سوانح حیات کو بنگلہ دیش کے قومی نصاب میں شامل کیا جائے، تاکہ نئی نسل اپنے ’’حقیقی ہیرو‘‘ اور قوم کے بانی سے متعلق جان سکے۔

یہ بھی پڑھیں: میرے خط کے جواب میں روز نے لکھا ہم مل کر مشکلات کا مقابلہ کریں گے، آپ مجھے پسند کرتے ہیں تو میں ماں سے بات کرنے کیلئے تیار ہوں

تاریخی ناموں کی بحالی

ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہالز، جو کبھی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ کے ناموں سے منسوب تھے، 1971ء کے بعد عوامی لیگ کی حکومت نے بھارت کو خوش کرنے کے لیے ان کے نام تبدیل کر کے ہندو ناموں سے بدل دیئے تھے۔ یہ اقدام بنگلہ دیش کی تاریخی شناخت کے ساتھ ناانصافی تھا۔ اب اس ناانصافی کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران پر حملے کی منظوری دیدی، حتمی حکم جاری نہیں کیا: امریکی اخبار

پاکستان کی اہمیت

مقررین نے مزید کہا کہ آج بنگلہ دیش کے عوام پاکستان کی اہمیت کو واضح طور پر سمجھ رہے ہیں۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام خانہ کعبہ کے تحفظ کا ضامن ہے، جو پوری امت مسلمہ کے لیے باعث فخر ہے۔ اس لیے بنگلہ دیش میں ہر سال قائداعظمؒ کی یوم پیدائش اور یوم وفات کو قومی سطح پر منانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی عظیم میراث کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔

قائداعظم کے وژن کی اہمیت

عوامی حلقوں نے زور دیا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے وژن نے نہ صرف پاکستان بلکہ بنگلہ دیش کی آزادی کی بنیاد بھی رکھی۔ لہٰذا، ان کی خدمات کو بنگلہ دیش کی نئی نسل تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں نصاب کی تشکیل نو اور تاریخی ناموں کی بحالی نا گزیر ہو چکی ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...