ماحول دوست وژن، پنجاب میں فصل کی باقیات جلانے کا رجحان بدلنے لگا
وزیراعلیٰ مریم نواز کا ماحول دوست وژن
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ مریم نواز کے ماحول دوست وژن کی بدولت پنجاب میں فصل کی باقیات جلانے کا رجحان بدلنے لگا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کھلاڑیوں پر پاکستان کے خلاف بولنے کے لیے دباؤ ہوتا ہے: شاہد آفریدی
فصل کی باقیات کے استعمال میں تبدیلی
تفصیلات کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع اور علاقوں میں فصل جلانے کے بجائے جانوروں کے چارے کے طورپر استعمال کرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پنجاب میں پہلی بار کسانوں نے جدید مشینری کے استعمال سے فصل کی باقیات جلانے کے بجائے جدید انداز سے جمع کرکے ایک نئی تاریخ قائم کی گئی۔ 14 دیہاتوں کے کل 11205 ایکڑ رقبے سے جدید مشینری کی مدد سے فصل کی باقیات جمع کی گئی۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی دفعہ 5 ہزار سپر سیڈر سے 2 لاکھ رقبہ کاشت ہوا جو جلایا نہیں گیا۔
یہ بھی پڑھیں: طلاق سے دلبرداشتہ شخص نے شہریوں پر گاڑی چڑھا دی، درجنوں ہلاک
جدید مشینری کا استعمال اور اس کے فوائد
ضلع چنیوٹ، اوکاڑہ، پاکپتن، نارووال اور فیصل آباد کے کسانوں نے جدید مشینری کے استعمال سے فصل کی باقیات کو چارے کے طورپر گانٹھوں کی شکل میں جمع کیا۔ ضلع چنیوٹ کے موضع جات رائے چند، جیل بھٹیان، راؤ باغ، طاہر آباد، موضع احمد آباد، اوکاڑہ، سوہبا، دیپالپور میں جدید مشینری کے استعمال سے سموگ کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کے کامیاب ہوتے ہی ایلون مسک کی دولت میں غیر معمولی اضافہ
مشینری کے ذریعے فصل کی باقیات کی منتقلی
تحصیل اوکاڑہ کے چک 18، جی ڈی، ہجرا شاہ مقیم اینڈ شیرگڑھ کے علاوہ ضلع پاکپتن میں گاؤں ٹبی لال بیگ، قبولیت، گاؤں ساندے خان، گاؤں فرید پور دوگران میں بھی جدید مشینری استعمال کی گئی۔ نارووال کے موضع کالا قادر اور فیصل آباد میں موضع ستیانہ میں کسانوں نے جدید مشینری سے فصل کی باقیات کو جلانے کے بجائے چارے کے طورپر استعمال کا آپشن استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لودھراں میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کے کیس میں اہم پیشرفت، استاد گرفتار، الزام کیا ہے؟ پریشان کن انکشاف
رقبے کے لحاظ سے فصل کی باقیات کی جمع آوری
اس عمل میں جدید مشینری کی مدد لی گئی، ٹرالیوں کے ذریعے فصل کی باقیات کو کھیتوں سے دوسرے مقامات پر منتقل کیا گیا۔ ضلع چنیوٹ کے 5 دیہات میں 4700 ایکڑ رقبہ سے فصل کی باقیات جمع کی گئی۔ اوکاڑہ کے 4 دیہات کا 3350 ایکڑ، پاکپتن کے 3 دیہات کا 1845 ایکڑ، نارووال کے 1 دیہات میں 725 ایکڑ رقبے سے باقیات جمع کی گئیں۔ فیصل آباد کے 1 گاؤں میں 585 ایکڑ سے فصل کی باقیات جمع کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات نے 9 ممالک کے ورک اور وزٹ ویزوں پر پابندی عائد کر دی
وزیراعلیٰ کی سموگ کنٹرول کے اقدامات پر بات چیت
وزیراعلیٰ مریم نواز نے سموگ پر قابو پانے کے لئے انتظامی کے ساتھ جدید مشینری کے فروغ کے لئے بھی اقدامات کیے ہیں۔ جدید مشینری کے استعمال سے فصل کی باقیات جلانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ ماضی میں فصل کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں سموگ کا باعث بن رہا تھا۔
وزیراعلیٰ کا کسانوں کے لئے پیغام
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ جدید مشینری کے استعمال سے سموگ پر قابو پانے میں مدد ملنا خوش آئند ہے۔ فصل جلانے کے بجائے چارے کے طورپر استعمال کرنے والے کسانوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔ جدید مشینری اور جدید طریقوں کے استعمال سے پنجاب میں ماحولیاتی بہتری لانا اولین مشن ہے۔








