چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس، ججوں کے ضابطۂ اخلاق میں کثرتِ رائے سے ترامیم کی منظوری
اجلاس کی تفصیلات
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا جس میں ججوں کے ضابطۂ اخلاق میں کثرتِ رائے سے ترامیم کی منظوری دے دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں 5 جولائی تک وقفے وقفے سے بارشوں کی پیشگوئی
اجلاس کی شرکاء
اجلاس کے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کونسل کے 2 الگ الگ اجلاس ہوئے، پہلے اجلاس میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق) اور بلوچستان عوامی پارٹی نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اہم اعلان کر دیا
اہم شرکاء کی موجودگی
’’جنگ ‘‘ کے مطابق پہلے اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر بھی شریک ہوئے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت دائر شکایات کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: سفاک شخص کا اپنی 2 کم عمر سوتیلی بیٹیوں پر بدترین تشدد
دوسرے اجلاس کی کارروائی
سپریم جوڈیشل کونسل کے دوسرے اجلاس میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی جگہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں 7 شکایات کا جائزہ لیا گیا، اور کونسل نے اکثریتی رائے سے 2 شکایات پر مزید کارروائی کا فیصلہ کیا۔
شکایات کا جائزہ
اعلامیے کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے 5 شکایات داخلِ دفتر کر دیں، آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت 67 شکایات کا جائزہ لیا گیا۔ 65 شکایات متفقہ طور پر مسترد کی گئیں، ایک مؤخر اور ایک کو اکثریتی فیصلے سے مزید کارروائی کے لیے منظور کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی عدم شرکت کے باعث کونسل کو دوبارہ تشکیل دیا گیا۔








