محکمۂ داخلہ پنجاب نے صوبے میں دفعہ 144 میں 7 دن کی توسیع کر دی
پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترجمان محکمۂ داخلہ پنجاب نے بتایا ہے کہ اس دوران ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں، دھرنوں اور اجتماعات پر پابندی ہوگی۔ محکمۂ داخلہ نے جمعہ 24 اکتوبر تک دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ عوامی آگاہی کے لیے دفعہ 144 کے نفاذ کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 3 ماہ میں زیرو ویسٹ پنجاب کا ہدف مقرر, چند ہفتوں میں 1 لاکھ افراد کو روزگار ملے گا
اجتماعات پر پابندی
ترجمان محکمۂ داخلہ کے مطابق دفعہ 144 کے تحت 4 یا زائد افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پر مکمل پابندی ہوگی۔ پنجاب بھر میں ہر قسم کے اسلحے کی نمائش پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی ٹرک کھائی میں گر کر تباہ، 3 اہلکار ہلاک
لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی
ترجمان نے مزید بتایا کہ صوبے میں دفعہ 144 کے تحت لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی مکمل پابندی ہے۔ اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت و تقسیم پر بھی پابندی ہوگی۔ کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے اجلاس میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، جس کی پس پردہ دہشت گردی اور امنِ عامہ کے خدشات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایوی ایشن جرنلسٹس کا باقاعدہ قیام عمل میں آ گیا، عدنان ملک تاحیات پیٹرن انچیف مقرر
استثنیٰ کے معاملات
ترجمان محکمۂ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، جنازے اور تدفین پر نہیں ہوگا۔ سرکاری فرائض کی انجام دہی پر موجود افسران و اہلکار اور عدالتیں بھی پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ لاؤڈ اسپیکر صرف اذان اور جمعے کے خطبے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
سیکیورٹی خدشات
محکمۂ داخلہ پنجاب کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر عوامی جلوس و دھرنا دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتے ہیں۔ شر پسند عناصر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے ریاست مخالف سرگرمیاں کر سکتے ہیں۔








