میں کمانڈ فیصلوں کے لیے ChatGPT استعمال کرتا ہوں، امریکی جنرل کا انکشاف
آرمی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی آٹھویں فوج کے کمانڈر میجر جنرل ولیم "ہینک" ٹیلر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ فوجی کمانڈ کے اہم فیصلوں میں مصنوعی ذہانت کے ٹول ChatGPT کی مدد لیتے ہیں۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، "چَیٹ اور میں آج کل واقعی بہت قریب ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس؛ احتساب عدالت کی ملزمان کو 342کے سوالنامے کے جواب جمع کروانے کی ہدایت
کانفرنس میں بیان
ویب سائٹ کلیش رپورٹ کے مطابق یہ بیان انہوں نے 13 اکتوبر 2025 کو واشنگٹن میں منعقدہ ایسوسی ایشن آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس آرمی (AUSA) کانفرنس میں دیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ جدید اے آئی ٹولز پیش گوئی کرنے والے ماڈلز، رپورٹس کے تجزیے، اور فیصلے کے عمل کو تیز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جنرل ٹیلر کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی روایتی فوجی بصیرت کا متبادل نہیں بلکہ معاون ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ یونائیٹڈ سوسائٹی ناروے کی جانب سے عرفان اللہ وڑائچ کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام
جنریٹو اے آئی کا کردار
جنرل ٹیلر نے وضاحت کی کہ امریکی فوج کی جانب سے جنریٹو اے آئی کا استعمال دراصل ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید کاری کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کمانڈرز کو نتائج کی پیش گوئی کرنے، آپریشنل منصوبہ بندی بہتر بنانے، اور مشہور فوجی تصور OODA Loop (مشاہدہ، سمت طے کرنا، فیصلہ، عمل) کو مزید مؤثر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کسی نے مجھے ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل نہیں کیا، میں نے خود اپنے آپ کو قائل کیا، ڈونلڈ ٹرمپ
عملی میدان میں استعمال
انہوں نے بتایا کہ اے آئی کا استعمال خاص طور پر ڈرون مخالف کارروائیوں، سائبر دفاع، لاجسٹکس، اور ہوابازی کی حفاظت جیسے شعبوں میں ہو رہا ہے، جس سے صورتحال کی بہتر آگاہی اور فیصلہ سازی کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دورہ آسٹریلیا اور زمبابوے کےلئے سعود شکیل، شاداب خان اور افتخار احمد کو ڈراپ کیے جانے کا امکان
فیصلہ سازی میں بہتری
جنرل ٹیلر نے کہا، “بطور کمانڈر، میری خواہش ہے کہ میں بہتر فیصلے کر سکوں تاکہ مجھے میدانِ جنگ میں برتری حاصل ہو۔”
مصنوعی ذہانت کی اہمیت
امریکی فوج کے اعلیٰ سطحی عہدیدار کی جانب سے یہ بیان اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب عملی فوجی حکمتِ عملی کا حصہ بن چکی ہے، جہاں انسان اور مشین مل کر جنگی فیصلے کر رہے ہیں۔








