لاہور سے شیخوپورہ کے لیے 2 ڈبل ڈیکر بسوں کا آغاز

پنجاب حکومت کی نئی بس سروس

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت پنجاب نے سیاحت کے فروغ کے لیے لاہور سے شیخوپورہ کے لیے دو ڈبل ڈیکر بسوں کی سروس کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑی میں کتابیں پڑھنے کا اپنا ہی لطف ہے، خاص طور پر بالآئی نشست یعنی برتھ مل جائے تو انسان دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو کر کتب بینی میں گم ہو جاتا ہے۔

بس سروس کی تفصیلات

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، پنجاب ٹورازم اینڈ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے تحت یہ بس سروس ہفتہ اور اتوار کو لاہور سے شیخوپورہ کے تاریخی مقامات تک چلے گی۔ بس کا فی کس کرایہ 1200 روپے مقرر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے کا ویلیو ایڈڈ سروسز کی غیر قانونی ایکٹیویشن سے متعلق عوامی شکایات کا نوٹس

پہلی سفر کی خاص باتیں

پہلے سفر میں پیر وارث شاہ کے مزار اور ہرن مینار کی سیر شامل تھی۔ اس دوران سیاحوں نے ہرن مینار پر بوٹنگ اور سائیکلنگ کا بھی لطف اٹھایا۔ شیخوپورہ میں سیاحوں کے لیے ہیر خوانی کی تقریب بھی رکھی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: تعلیم اور کیریئر ایکسپو، فیوچر فیسٹ کا انعقاد 3 اور 4 نومبر 2024 کو پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں ہو گا۔

شہریوں کا ردعمل

شہریوں نے حکومت کے اس اقدام کو شیخوپورہ میں سیاحت کے فروغ کے لیے تاریخی پیشرفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو روزہ سیاحتی ٹور نے شیخوپورہ کے تاریخی ورثے کو نئی شناخت دی ہے اور ڈبل ڈیکر بس سروس نے لاہور اور دیگر اضلاع کے شہریوں میں دلچسپی بڑھا دی ہے۔

حکام کی رائے

ڈپٹی کمشنر شاہد عمران مارتھ نے کہا ہے کہ شیخوپورہ کو ٹورازم کا حب بنایا جا رہا ہے، جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری ٹورازم صدف ظفر نے کہا کہ مقامی معیشت کو فروغ اور تاریخی ورثے کی ترویج ہمارا مقصد ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...