قانون سازی: دیت اور قصاص کی عملی مشکلات کا حل درکار
مصنف کا تعارف
مصنف: جسٹس (ر) بشیر اے مجاہد
قسط: 45
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کا پنجاب میں چکن کے نرخ بڑھنے پر اظہار برہمی، سبزیوں کے حوالے سے بھی اہم احکامات جاری
قتل کے مقدمات اور معافی
ایک قتل کے مقدمے کو قابل راضی نامہ بنایا گیا اور اس میں قصاص اور دیت کے قانون کو نافذ کرنے کی صورت بنائی گئی۔ اگر قتل کیا گیا ہے تو اس کی سزا قصاص رکھی گئی کہ قتل کے بدلہ میں قتل کر لیں یا مقتول کے ورثاء معاوضہ لے کر صلح کر سکتے ہیں۔ یہ قانون نافذ کر دیا گیا۔ اگر کسی کو زخمی کیا جائے تو اس میں بھی زخمی ہونے والا اپنے ملزم کو اسی قسم کے آلہ سے ویسا ہی زخم لگانے کا حق رکھتا ہے یا وہ زخمی کو معاوضہ ادا کرے تاکہ مجروح مطمئن ہو جائے اور معاف کر دے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کا صحت عامہ کے فروغ میں اہم قدم، پی این ایس درمان جہ، اورماڑہ میں جدید بلاک کا افتتاح
قانونی مشکلات
اس سلسلے میں جو عملی مشکلات پیش آتی ہیں اُن کا حل نکالنے کے لئے قانون سازی ضروری ہے جو کہ ابھی تک نہیں کی گئی۔ جہاں کچھ ہوا بھی ہے وہ ابھی نامکمل ہے۔ ایک ملزم نے کسی کے سر پر کلہاڑی سے وار کر کے زخمی کر دیا۔ نچلی عدالت نے فیصلہ دیا کہ مضروب ایسی ہی ضرب ملزم کے سر پر لگائے۔ جب ہائی کورٹ میں مقدمہ پیش ہوا تو میں نے سرجن کو بلایا کہ وہ بالکل اتنی ضرب لگا سکتا ہے جو زیادہ ہو نہ کم تو اس نے معذوری ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھیں: رضا ربانی تحریک انصاف پر ممکنہ پابندی اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے کھل کر بول پڑے
سرگودھا کا مقدمہ
سرگودھا سے میرے سامنے ایک مقدمہ پیش ہوا کہ ایک نوجوان لڑکے سے قتل سرزد ہو گیا ہے۔ سیشن جج کی عدالت نے ملزم کی عمر اور گواہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اُسے چند سال قید کی سزا سنائی اور ساتھ ہی مقتول کے ورثاء کو بھاری رقم بطور دیت ادا کرنے کا حکم دیا۔ ملزم کو جو سزا دی گئی تھی وہ تو اُس نے گزار لی۔ اب وہ دیت کی رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے جیل میں تھا۔ یہ مقدمہ سرگودھا سے فوجداری کے مشہور ماہر وکیل سید احسان قادر شاہ نے پیش کیا کہ ملزم ایک غریب آدمی ہے۔ اس کا خاندان بھی بہت غریب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متوقع برفباری، پی ڈی ایم اے پنجاب کی تیاریاں مکمل، مری میں سیاحوں کیلئے 13 فسیلیٹیشن سنٹرز قائم
قبائل کی ذمہ داری
اب چونکہ ملک کے ان حصوں میں قبائلی نظام نہیں ہے اس لیے یہ ذمہ داری ریاست کی ہے کہ وہ ایسے افراد کی دیت ادا کرے۔ اس سلسلے میں میں نے بیت المال کے ناظم سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ اُن کے پاس ایسی ادائیگیوں کے لئے کوئی مد نہیں ہے۔ کلکٹر ضلع سرگودھا سے پوچھا کہ کوئی سرکاری اراضی جسے بیچ کر ملزم کی دیت ادا کی جائے تو انہوں نے بھی معذرت کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: ماضی کو نہیں سوچتا، سلیکشن کمیٹی کی بھی اپنی اتھارٹی ہے: محمد رضوان کی لاہور میں پریس کانفرنس
ملتان بنچ کا مقدمہ
اسی طرح کا ایک اور مقدمہ ملتان بنچ کے سامنے پیش ہوا۔ ایک نوجوان لڑکے کا جیل سے خط آیا جس میں اُس نے لکھا کہ وہ سائیکل پر کہیں جا رہا تھاکہ بازار میں اچانک ایک بزرگ شخص اُس کے سامنے آ گیا۔ وہ بریکیں نہ لگا سکا اور وہ بزرگ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ سیشن کورٹ سے اُسے چند سال قید اور 3 لاکھ روپے دیت کی رقم مقتول خاندان کو ادا کرنے کی سزا ہوئی۔ اب یہ ملزم اپنی قید کی سزا تو پوری کر چکا ہے، مگر دیت کی رقم ادا کرنے کے لئے کوئی ذریعہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں ہمت کارڈ پروگرام برائے افراد باہم معذوری فیز 3 کی تقریب، مریم نواز محکوم طبقے کی آواز ہیں: سہیل شوکت بٹ
نتیجہ
جن لوگوں سے بھی مشورہ کیا جا سکتا تھا، مشاورت کے بعد اس لڑکے کو بھی رہا کر دیا اور کہا کہ وہ محنت مزدوری کر کے دیت کی رقم ادا کرے۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








