جب آپ اپنی مرضی کے احساسات کا انتخاب کر سکتے ہیں، تب آپ ذہانت کی طرف بڑھنے لگتے ہیں
مصنف اور ترجمہ
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات کب ہوں گے؟ عبوری حکومت کے سربراہ نے “صاف جواب” دیا
قسط: 9
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں وی پی این کو ‘غیر شرعی’ قرار دیا گیا: ‘جس کمپیوٹر پر اسلامی نظریاتی کونسل نے فتویٰ جاری کیا، اسے بھی حرام قرار دینا ہوگا’
اپنے احساس و ادراک کا انتخاب
آپ کے احساسات اور محسوسات محض جذبات نہیں ہیں بلکہ یہ وہ ردعمل ہیں جن کا آپ کو انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اگر آپ کے جذبات آپ کے ذہن کے تابع ہیں تو پھر آپ نقصان دہ اور ضررساں رویوں اور طرزہائے عمل کا انتخاب نہیں کرتے۔ جب آپ کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ اپنی مرضی کے مطابق اپنے احساسات و محسوسات کا انتخاب کر سکتے ہیں تو پھر آپ "ذہانت" کی منزل کی طرف گامزن ہو جائیں گے جہاں ذیلی راستے نہیں ہیں اور نہ ہی آپ کو ذہنی و اعصابی پریشانی و بے چینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ راستہ آپ کے لیے قطعی نیا اور نامانوس ہوگا کیونکہ آپ اپنے احساسات و محسوسات کو اپنی زندگی کے لیے ناگزیر حیثیت کے بجائے اپنی پسند و ناپسند کی حیثیت سے دیکھیں گے۔ شخصی آزادی کا یہی راز اور کلید ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا یہ منافقت نہیں؟ اقرارالحسن نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھادیا
استدلال اور منطق
آپ استدلال اور منطق کے ذریعے اس واہمے کو غلط ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ کے جذبات آپ کے بس میں نہیں ہیں۔ محض استدلال اور منطقی رویے اور طرزعمل کے ذریعے آپ اپنے اندازفکر اور جذبات کے لحاظ سے اپنے وجود اور ذات کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لینے کے مرحلے کا آغاز کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے اپنی جماعت کے امیدوار کے زہران ممدانی سے ہارنے کی وجہ بتا دی
استدلالی اور منطقی مفروضہ
تمہید عمومی: ارسطو ایک مرد ہے۔
تمہید خصوصی: تمام مردوں کے چہروں پر بال ہوتے ہیں۔
نتیجہ: ارسطو کے چہرے پر بھی بال ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد 76 ہزار سے تجاوز کر گئی
غیراستدلالی اور غیرمنطقی مفروضہ
تمہید عمومی: ارسطو کے چہرے پر بال ہیں۔
تمہید خصوصی: تمام مردوں کے چہروں پر بال ہوتے ہیں۔
نتیجہ: ارسطو ایک مرد ہے۔
اس ضمن میں یہ امر نہایت واضح ہے کہ آپ اس استدلال کا نفاذ کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیں کہ آپ کی تمہید عمومی اور تمہید خصوصی کے درمیان یکسانیت پائی جاتی ہے۔ دوسری مثال میں ارسطو ایک چیمینزی یا چھچھوندر ہو سکتا ہے۔ ذیل میں ایک ایسی مشق یا مثال درج ہے جو اس نظریے کو ہمیشہ کے لیے کوڑے دان میں پھینک سکتی ہے کہ آپ اپنے جذباتی عالم کے خود کبھی مالک نہیں ہو سکتے:
یہ بھی پڑھیں: قلوپطرہ غالباً فرعون دور کی آخری مضبوط حکمران تھی،جلا وطنی کاٹی، پھر انتہائی چالاکی اور طاقت کے ذریعے بھائی سے کھویا ہوا تخت واپس لے لیا.
مشق یا مثال
تمہید خصوصی: مجھے اپنے خیالات پر قابو نہیں ہے۔
تمہید عمومی: میرے احساسات کا ماخذ میرے خیالات ہیں۔
نتیجہ: میں اپنے احساسات و محسوسات کو اپنے قابو میں کر سکتا ہوں۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








