اب کس کو چور کہوں، اور کس کو کہوں کچھ سادہ۔۔۔
زہر کی تقسیم
زہر کو بانٹنے والا نہ مرا گھر نکلے
ظلم دیکھوں تو میری آنکھ ذرا تر نکلے
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
چور اور سادگی
اب کسے چور کہوں، اور کہوں کچھ سادہ
مہر کی جن سے توقع تھی ستم گر نکلے
یہ بھی پڑھیں: پاک افغان کشیدگی، ڈاکٹر اسرار احمد کی پرانی ویڈیو وائرل ہوگئی
آگ کی دھوپ
دھوپ نکلی ہے بھلے آگ کی صورت یارو
شہر میں آج کوئی لے کے کھلا سر نکلے
یہ بھی پڑھیں: سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کے خلاف انکوائری شروع
ذوق الفت
ذوق الفت نہ بڑھاۓ گا خمار رنداں
مے پلانے پہ بضد سارے گدا گر نکلے
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا؛ دم گھٹنے سے 6 بچیاں جاں بحق
لوٹنا اور لٹانا
لوٹنا اور لٹانا تو چلے گا ساقی
جام پینے کو اگر شہر کے تاجر نکلے
یہ بھی پڑھیں: شام کو مغرب کے بعد آجایا کریں، آپ بھی سیراب ہوں، ”آپ نے یہ مقناطیسیت کہاں سے لی؟“ میں حیران پریشان لیکن اب کچھ جان میں جان آئی
راہبر کی سوچ
گر مجھے خود ہی نکلنا ہے کسی میدان میں
راہبر آج ذرا سوچ کے باہر نکلے
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ نے صارفین کی پرائیویسی کے لیے اہم فیچر متعارف کرادیا
جام مے
جام مے روز پلاۓ جو مہینوں سالوں
ساقیا تیرے بجاۓ تو قلندر نکلے
یہ بھی پڑھیں: ایران کا دارالحکومت تہران میں بتدریج انتظامی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ
پیاسا اور سمندر
ایک پیاسا ہوں بتائیں یہ بگڑتی لہریں
کاش میرے ہی لیے صاف سمندر نکلے
عشق و مستی
کام ہے روح و جگر کا یہ مگر امبر جی
عشق و مستی کا کماں دار نہ پھر کھر نکلے
کلام : ڈاکٹر شہباز امبر رانجھا








