افغان طالبان رجیم نے کالعدم ٹی ٹی پی کی سرپرستی ختم کرنے پر اتفاق کیا: خواجہ آصف
افغان طالبان کی ٹی ٹی پی کی سرپرستی ختم کرنے پر اتفاق
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے کالعدم ٹی ٹی پی کی سرپرستی ختم کرنے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی قیادت کو بالغ نظری کے ساتھ قومی ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے: لیاقت بلوچ
معاہدے میں مزید بات چیت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ اختلافات کوئی نئی بات نہیں، 25 اکتوبر کو معاہدے میں مزید چیزوں پربات چیت ہوگی، 25 اکتوبر کو اجلاس میں مزید چیزیں طے کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پیکٹا کے زیر اہتمام گلوبل سٹیزن شپ ان ایجوکیشن کانفرنس کل شروع ہوگی ، ملکی و غیر ملکی ماہرین تعلیم شرکت کریں گے
طالبان کی سرپرستی پر خدشات
خواجہ آصف نے کہا کہ اگرطالبان رجیم نےخوراج، ٹی ٹی پی کی سرپرستی جاری رکھی تو بہت افسوسناک ہوگا، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر نظرثانی کریں گے، افغانستان کے ساتھ مستقل حل چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کال سینٹر میں لڑکی کو حبس بے جا میں رکھنے کا مقدمہ درج، 8 افراد گرفتار
استنبول مذاکرات کی اہمیت
وزیر دفاع نے کہا کہ امید ہے استنبول مذاکرات میں تمام معاملات پر بات ہوگی، استنبول مذاکرات میں کامیابی ہوئی تو اچھی بات ہے، معاہدہ ہونے کے بعد ایسا نہیں ہے کہ سب معمول پر آگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کی فضل الرحمان سے ملاقات، بھارتی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے پر اتفاق
معاہدے پر عملدرآمد کے طریقے
خواجہ محمد آصف نے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد ایک طے شدہ مکینزم کے تحت ہوگا اور ممکن ہے کہ ترکیے میں مذاکرات 25 سے 27 اکتوبر تک جاری رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے حملوں سے این ایل جی پیداواری صلاحیت کو کتنا نقصان پہنچا۔ قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو نے تفصیلات بیان کر دیں۔
ٹی ٹی پی کی قیادت کی موجودگی
وزیر دفاع نے مزید بتایا کہ ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔ دہشت گرد افغان علاقوں میں عام شہریوں میں چھپ کر رہتے ہیں، اور ہمیں ایسے ثبوت ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان دہشت گردوں کو افغانستان کے اندر سے ہدایات دی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 5 جی سروسز کا آغاز، بڑی ٹیلی کام کمپنیوں کو لائسنس جاری
مختصر معاہدے کی تفصیلات
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایک صفحے پر مشتمل، چار پیراگراف کا ایک مختصر معاہدہ موجود ہے، تاکہ بعد میں افغان طالبان یہ نہ کہہ سکیں کہ کسی مخصوص شہر کے لوگ اس معاہدے کو نہیں مانتے۔
مذاکرات کا پس منظر
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر اور ترکیے کی ثالثی سے جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ دونوں ممالک نے آئندہ دنوں میں ترکیے میں مزید مذاکرات کرنے اور دیرپا امن و استحکام کے لیے ایک مستقل مکینزم بنانے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے.








