سنائے تاکائیچی جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم منتخب ہو گئی

جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم

ٹوکیو(ڈیلی پاکستان آن لائن) جاپان کی قدامت پسند سیاستدان سنائے نے تاکائیچی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں اکثریتی ووٹ لیکر جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا دبئی میں مفت علاج کروایا جاسکتا ہے؟

ووٹنگ کا عمل

سابق وزیرِاعظم شِنزو آبے کی قریبی ساتھی اور برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر سے متاثر سنائے تاکائیچی نے 465 رکنی ایوان میں سے 237 ووٹ حاصل کیے، جو واضح اکثریت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا، اسرائیلی فوج کا دعویٰ

سیاسی تبدیلیوں کی توقع

تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی جیت نہ صرف جاپان میں خواتین کیلئے سیاست کے بند دروازے کھولنے کا باعث بنے گی بلکہ ملکی سیاست کا جھکاؤ واضح طور پر دائیں بازو کی جانب بڑھائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: گنڈا پور کی گاڑیاں سیالکوٹ سے گزریں، توقع تھی کہ سانحہ سوات کے متاثرہ خاندانوں سے معافی نہیں، تعزیت ہی کرلیں گے: عظمیٰ بخاری

نئی سیاسی سمت

جاپان، جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے، اب ایک نئی سیاسی سمت اختیار کرتا نظر آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سینئر صحافی سہیل وڑائچ کی عمران خان سے جیل میں “خفیہ ملاقات” ، بانی پی ٹی آئی کا موقف اور احتجاج کی کہانی شیئرکردی

اتحاد کا معاہدہ

تاکائیچی کی کامیابی اُس وقت ممکن ہوئی جب ان کی حکمران جماعت ‘لبرل ڈیموکریٹک پارٹی’ (ایل ڈی پی) نے دائیں بازو کی جماعت ‘جاپان انوویشن پارٹی’ (ایشِن) کے ساتھ اتحاد کا معاہدہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: دانش تیمور کی 4 شادیوں سے متعلق بیان پر شرمیلا فاروقی غصہ میں آ گئیں، شدید تنقید کا نشانہ بنا دیا

حلف برداری کی توقعات

توقع کی جارہی ہے آج شام ایوانِ بالا سے بھی ان کی توثیق ہو جائے گی اور وہ جاپان کی 104ویں وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھائیں گی۔

وہ وزیرِاعظم شیگرو ایشیبا کی جگہ لیں گی جنہوں نے حالیہ انتخابی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کلاکوٹ سے رحمان ڈکیت کا بیٹا غیر قانونی اسلحہ سمیت گرفتار

بہت سے چیلنجز کا سامنا

تاہم سنائے تاکائیچی کا عہدہ سنبھالنا ترقی پسند سیاست کی علامت نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ اسے مہاجرین، معاشرتی پالیسیوں اور اقتصادی امور پر سخت گیر موقف کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

موجودہ معاشی صورت حال

جاپان، جو طویل عرصے تک مہنگائی کی کمی (ڈیفلیشن) سے نبرد آزما رہا، اب بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بحران کا شکار ہے، جس سے عوامی غصہ بڑھا ہے اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں، جیسے ‘سانسیتو پارٹی’، کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...