سنائے تاکائیچی جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم منتخب ہو گئی

جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم

ٹوکیو(ڈیلی پاکستان آن لائن) جاپان کی قدامت پسند سیاستدان سنائے نے تاکائیچی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں اکثریتی ووٹ لیکر جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملتان ٹیسٹ: دوسرے روز کا اختتام، انگلینڈ کا پاکستان کے 556 رنز کے جواب میں 96 رنز بنانا

ووٹنگ کا عمل

سابق وزیرِاعظم شِنزو آبے کی قریبی ساتھی اور برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر سے متاثر سنائے تاکائیچی نے 465 رکنی ایوان میں سے 237 ووٹ حاصل کیے، جو واضح اکثریت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے خلاف بیان دینے والا افغان شہری گرفتار

سیاسی تبدیلیوں کی توقع

تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی جیت نہ صرف جاپان میں خواتین کیلئے سیاست کے بند دروازے کھولنے کا باعث بنے گی بلکہ ملکی سیاست کا جھکاؤ واضح طور پر دائیں بازو کی جانب بڑھائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی تمام ضروری ضمانتیں دینے کو تیار ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

نئی سیاسی سمت

جاپان، جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے، اب ایک نئی سیاسی سمت اختیار کرتا نظر آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈکپ، بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے کیلئے پاکستان نے تین شرائط رکھ دی ہیں، بھارتی میڈیا کا دعوی

اتحاد کا معاہدہ

تاکائیچی کی کامیابی اُس وقت ممکن ہوئی جب ان کی حکمران جماعت ‘لبرل ڈیموکریٹک پارٹی’ (ایل ڈی پی) نے دائیں بازو کی جماعت ‘جاپان انوویشن پارٹی’ (ایشِن) کے ساتھ اتحاد کا معاہدہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری ہسپتالوں کی حدود میں ہر قسم کے نجی میڈیکل سٹورز اور فارمیسیز کو فوری بند کرنے کا حکم

حلف برداری کی توقعات

توقع کی جارہی ہے آج شام ایوانِ بالا سے بھی ان کی توثیق ہو جائے گی اور وہ جاپان کی 104ویں وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھائیں گی۔

وہ وزیرِاعظم شیگرو ایشیبا کی جگہ لیں گی جنہوں نے حالیہ انتخابی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان میں اسرائیلی فوج نے امدادی کارکنوں اور ہیلتھ ورکرز کو نشانہ بنانا شروع کر دیا

بہت سے چیلنجز کا سامنا

تاہم سنائے تاکائیچی کا عہدہ سنبھالنا ترقی پسند سیاست کی علامت نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ اسے مہاجرین، معاشرتی پالیسیوں اور اقتصادی امور پر سخت گیر موقف کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

موجودہ معاشی صورت حال

جاپان، جو طویل عرصے تک مہنگائی کی کمی (ڈیفلیشن) سے نبرد آزما رہا، اب بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بحران کا شکار ہے، جس سے عوامی غصہ بڑھا ہے اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں، جیسے ‘سانسیتو پارٹی’، کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...