سنائے تاکائیچی جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم منتخب ہو گئی
جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم
ٹوکیو(ڈیلی پاکستان آن لائن) جاپان کی قدامت پسند سیاستدان سنائے نے تاکائیچی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں اکثریتی ووٹ لیکر جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت کے 4 ہزار 758 ارب روپے وفاق کے ذمہ واجب الادا ہیں، محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے تفصیلات جمع کرلیں
ووٹنگ کا عمل
سابق وزیرِاعظم شِنزو آبے کی قریبی ساتھی اور برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر سے متاثر سنائے تاکائیچی نے 465 رکنی ایوان میں سے 237 ووٹ حاصل کیے، جو واضح اکثریت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ: اسرائیلی فوج کی پناہ گزین سکول پر بمباری، 40 فلسطینی شہید
سیاسی تبدیلیوں کی توقع
تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی جیت نہ صرف جاپان میں خواتین کیلئے سیاست کے بند دروازے کھولنے کا باعث بنے گی بلکہ ملکی سیاست کا جھکاؤ واضح طور پر دائیں بازو کی جانب بڑھائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پتوکی: اونچی آواز میں نور جہاں کے گانے سننے والا شہری گرفتار
نئی سیاسی سمت
جاپان، جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے، اب ایک نئی سیاسی سمت اختیار کرتا نظر آ رہا ہے۔
Sanae Takaichi secured a majority in the House of Representatives and was nominated as Prime Minister with 237 votes. pic.twitter.com/TtLi1hTKPb
— おはよ!まいぶらざー (@OhayoMybrother) October 21, 2025
یہ بھی پڑھیں: ایران اور امریکہ کے 2 رہنما براہِ راست رابطے میں رہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ
اتحاد کا معاہدہ
تاکائیچی کی کامیابی اُس وقت ممکن ہوئی جب ان کی حکمران جماعت ‘لبرل ڈیموکریٹک پارٹی’ (ایل ڈی پی) نے دائیں بازو کی جماعت ‘جاپان انوویشن پارٹی’ (ایشِن) کے ساتھ اتحاد کا معاہدہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: جلاؤ گھیراؤ اور تشدد کے مقدمے میں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی ضمانت منظور
حلف برداری کی توقعات
توقع کی جارہی ہے آج شام ایوانِ بالا سے بھی ان کی توثیق ہو جائے گی اور وہ جاپان کی 104ویں وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھائیں گی۔
وہ وزیرِاعظم شیگرو ایشیبا کی جگہ لیں گی جنہوں نے حالیہ انتخابی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: زمبابوے کیخلاف تیسراون ڈے، قومی ٹیم کے2کھلاڑی انجری کا شکار
بہت سے چیلنجز کا سامنا
تاہم سنائے تاکائیچی کا عہدہ سنبھالنا ترقی پسند سیاست کی علامت نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ اسے مہاجرین، معاشرتی پالیسیوں اور اقتصادی امور پر سخت گیر موقف کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
#UAEPresident: I extend my congratulations to Sanae Takaichi on becoming Prime Minister of #Japan and wish her success in leading the country towards further progress and development. Building on the foundations of our Comprehensive Strategic Partnership, I look forward to… pic.twitter.com/khEJE4XcZb
— WAM English (@WAMNEWS_ENG) October 21, 2025
موجودہ معاشی صورت حال
جاپان، جو طویل عرصے تک مہنگائی کی کمی (ڈیفلیشن) سے نبرد آزما رہا، اب بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بحران کا شکار ہے، جس سے عوامی غصہ بڑھا ہے اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں، جیسے ‘سانسیتو پارٹی’، کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔








