جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے کوڈ آف کنڈکٹ میں ترامیم پر اعتراضات اٹھا دیئے۔
سپریم کورٹ کے ججز کا کوڈ آف کنڈکٹ پر اعتراض
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز جسٹس منصور اور جسٹس منیب اختر نے کوڈ آف کنڈکٹ میں ترامیم پر اعتراضات اٹھا دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: ویوو نے 200 میگا پکسل ZEISS APO ٹیلی فوٹو کیمرہ اور Dimensity 9500 کے ساتھ X300 Pro متعارف کرا دیا
ترمیمی رولز کی منظوری پر تحفظات
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق جسٹس منصور اور جسٹس منیب اختر نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط میں لکھا کہ موجودہ تشکیل کے ساتھ ترمیمی رولز کی منظوری نہیں ہوسکتی تھی۔ کچھ ججز پالیسی میکنگ کمیٹی میں رولز پر پہلے رائے دے چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ووٹ لیا ہے تو دلہن بھی ڈھونڈ کردیں، کارکن نے رکن اسمبلی کو روک کر مطالبہ کردیا
جسٹس سرفراز ڈوگر کی شمولیت پر اعتراض
دونوں ججز کی جانب سے کونسل میں جسٹس سرفراز ڈوگر کی شمولیت پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ خط کے مطابق اجلاس سے پہلے خط لکھا تھا کیونکہ جسٹس ڈوگر کے معاملے پر اپیل زیر التوا ہے۔ جسٹس ڈوگر کو نکال کر کونسل کی تشکیل نو ہونی چاہیے تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی اتنی سخت تھی کہ خامنہ ای سے ملاقات کیلئے لوگوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جایا جاتا تھا، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو بھی خامنہ ای کے خفیہ ٹھکانے پر لے جانے سے پہلے آنکھوں پر پٹی باندھی گئی، بڑا دعویٰ۔
عدلیہ کی آزادی پر ترمیمات کے اثرات
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ترامیم اپنا لی گئیں تو یہ عدلیہ کی آزادی کو محدود کردے گی۔ 26 ویں ترمیم ابھی سپریم کورٹ میں چیلنج ہے، اور کونسل کے دو ممبران کا مستقبل بھی اس کیس کے ساتھ طے ہونا ہے۔
بین الاقوامی اقدار کے خلاف ترامیم
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مجوزہ ترمیم سے عدلیہ کی آزادی کو کمزور، شفافیت کو محدود اور اختیارات کو ایک شخص تک محدود کیا جا رہا ہے۔ ترامیم بین الاقوامی اقدار کے بھی خلاف ہیں۔ یہ ترامیم خطرناک اس لیے بھی ہیں کہ ان کا دائرہ اختیار مبہم ہے، اور یہ مخصوص ججز کی آواز دبانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔








