جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے کوڈ آف کنڈکٹ میں ترامیم پر اعتراضات اٹھا دیئے۔
سپریم کورٹ کے ججز کا کوڈ آف کنڈکٹ پر اعتراض
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز جسٹس منصور اور جسٹس منیب اختر نے کوڈ آف کنڈکٹ میں ترامیم پر اعتراضات اٹھا دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا قطر اور سعودی عرب کے سفیروں سے ٹیلیفونک رابطہ
ترمیمی رولز کی منظوری پر تحفظات
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق جسٹس منصور اور جسٹس منیب اختر نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط میں لکھا کہ موجودہ تشکیل کے ساتھ ترمیمی رولز کی منظوری نہیں ہوسکتی تھی۔ کچھ ججز پالیسی میکنگ کمیٹی میں رولز پر پہلے رائے دے چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیار سے کہا گیا کام ڈنڈے سے زیادہ بہتر نتائج دیتا ہے، جہاں سزا دینا ضروری ہو وہاں کبھی رعایت مت کرنا سامنے خواہ کوئی بھی ہو، کیک شیک لیکر مت جانا
جسٹس سرفراز ڈوگر کی شمولیت پر اعتراض
دونوں ججز کی جانب سے کونسل میں جسٹس سرفراز ڈوگر کی شمولیت پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ خط کے مطابق اجلاس سے پہلے خط لکھا تھا کیونکہ جسٹس ڈوگر کے معاملے پر اپیل زیر التوا ہے۔ جسٹس ڈوگر کو نکال کر کونسل کی تشکیل نو ہونی چاہیے تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر میں مزید 43 چوکیاں قائم کر لیں، ہر چوکی میں کتنے اہلکار تعینات کیے۔۔؟ جانیے
عدلیہ کی آزادی پر ترمیمات کے اثرات
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ترامیم اپنا لی گئیں تو یہ عدلیہ کی آزادی کو محدود کردے گی۔ 26 ویں ترمیم ابھی سپریم کورٹ میں چیلنج ہے، اور کونسل کے دو ممبران کا مستقبل بھی اس کیس کے ساتھ طے ہونا ہے۔
بین الاقوامی اقدار کے خلاف ترامیم
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مجوزہ ترمیم سے عدلیہ کی آزادی کو کمزور، شفافیت کو محدود اور اختیارات کو ایک شخص تک محدود کیا جا رہا ہے۔ ترامیم بین الاقوامی اقدار کے بھی خلاف ہیں۔ یہ ترامیم خطرناک اس لیے بھی ہیں کہ ان کا دائرہ اختیار مبہم ہے، اور یہ مخصوص ججز کی آواز دبانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔








