طیفی بٹ کے شناختی کوائف میں بڑے پیمانے پر جعلسازی کا انکشاف
جعلسازی کی انکشافات
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے طیفی بٹ کے شناختی کوائف میں بڑے پیمانے پر جعلسازی کا انکشاف ہوا ہے۔ طیفی بٹ کے پاس تین قومی شناختی کارڈز اور دو پاکستانی پاسپورٹس موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا خواجہ سراؤں کے لیے مثالی اقدام
مختلف ناموں سے پاسپورٹس
سماء نیوز کے مطابق طیفی بٹ نے بیرونِ ملک سفر کے لیے دو مختلف ناموں سے پاسپورٹس بنوا رکھے تھے جبکہ خفیہ سفروں کے دوران مخصوص شناختی کارڈ اور پاسپورٹ استعمال کرتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لائسنس کے حصول کے لیے دھوکہ دہی سے اپنے دوست کی جگہ ڈرائیونگ ٹیسٹ دینے والا ملزم گرفتار
دبئی کی فراری
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طیفی بٹ امیر بالاج قتل کیس سے ایک روز قبل اسلام آباد سے دبئی فرار ہوا۔ ریکارڈ کے مطابق، اس نے یہ سفر جعلی شناخت پر کیا۔ خواجہ تعریف گلشن کے نام سے شناختی کارڈ رکھنے والا طیفی بٹ گرفتاری سے بچنے کے لیے مختلف نام استعمال کرتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق روسی صدر کا ایران کو ایٹمی ہتھیار فراہم کرنے سے متعلق بیان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید غصہ آگیا
شناختی کارڈز کے نام
ملزم کے ایک شناختی کارڈ پر نام خواجہ تعریف گلشن، دوسرے پر تعریف بٹ، جبکہ تیسرے پر تعریف گلشن درج تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی
پاسپورٹس کی جعلسازی
طیفی بٹ کے دو پاسپورٹس بھی مختلف ناموں سے تیار کیے گئے تھے۔ شناختی کوائف اور سفری دستاویزات میں جعلسازی کے معاملے پر متعلقہ اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس مقابلہ
واضح رہے کہ طیفی بٹ چند روز قبل سی سی ڈی پولیس کے مبینہ مقابلے میں مارا گیا تھا۔








