طیفی بٹ کے شناختی کوائف میں بڑے پیمانے پر جعلسازی کا انکشاف
جعلسازی کی انکشافات
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے طیفی بٹ کے شناختی کوائف میں بڑے پیمانے پر جعلسازی کا انکشاف ہوا ہے۔ طیفی بٹ کے پاس تین قومی شناختی کارڈز اور دو پاکستانی پاسپورٹس موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری حج سکیم: درخواستوں کی وصولی منگل تک جاری رہے گی
مختلف ناموں سے پاسپورٹس
سماء نیوز کے مطابق طیفی بٹ نے بیرونِ ملک سفر کے لیے دو مختلف ناموں سے پاسپورٹس بنوا رکھے تھے جبکہ خفیہ سفروں کے دوران مخصوص شناختی کارڈ اور پاسپورٹ استعمال کرتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: پنجاب میں منشیات فروشوں کا خاتمہ، سی سی ڈی ان ایکشن!
دبئی کی فراری
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طیفی بٹ امیر بالاج قتل کیس سے ایک روز قبل اسلام آباد سے دبئی فرار ہوا۔ ریکارڈ کے مطابق، اس نے یہ سفر جعلی شناخت پر کیا۔ خواجہ تعریف گلشن کے نام سے شناختی کارڈ رکھنے والا طیفی بٹ گرفتاری سے بچنے کے لیے مختلف نام استعمال کرتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں غیرت کے نام پر لڑکی کا قتل، سابق وائس چیئرمین، مدعی مقدمہ سمیت 4ملزم گرفتار
شناختی کارڈز کے نام
ملزم کے ایک شناختی کارڈ پر نام خواجہ تعریف گلشن، دوسرے پر تعریف بٹ، جبکہ تیسرے پر تعریف گلشن درج تھا۔
یہ بھی پڑھیں: گلوکارہ کیٹی پیری کی طرح اگر آپ بھی خلا کا سفر کرنا چاہیں تو کتنے پیسے لگیں گے؟
پاسپورٹس کی جعلسازی
طیفی بٹ کے دو پاسپورٹس بھی مختلف ناموں سے تیار کیے گئے تھے۔ شناختی کوائف اور سفری دستاویزات میں جعلسازی کے معاملے پر متعلقہ اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس مقابلہ
واضح رہے کہ طیفی بٹ چند روز قبل سی سی ڈی پولیس کے مبینہ مقابلے میں مارا گیا تھا۔








