خیبر پختونخوا میں گورنر راج نہیں لگایا جائے گا، طلال چوہدری کا اعلان
وزیرِ مملکت برائے داخلہ کی وضاحت
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے واضح کر دیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نہیں لگایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر حملے میں “ایلبرس” میزائل سسٹم کے استعمال کا شبہ
میڈیا کے ساتھ گفتگو
پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ آئینی طور پر وفاقی حکومت کے پاس گورنر راج کا اختیار موجود ہے مگر وفاقی حکومت ایسا اقدام نہیں اٹھائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ’کوبرا وزارتی اجلاس‘ کی صدارت کریں گے
صوبائی پولیس کی مدد
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خلوصِ نیت کے ساتھ صوبائی پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کیں لیکن اس معاملے کو سیاسی رنگ دے دیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ بعض حلقے دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کے خلاف ہیں۔ وزیرِ مملکت نے کہا "سہیل بزدار" کو سوچ سمجھ کر تعینات کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہریار ملک میموریل اوپن ٹینس: مزمل مرتضیٰ نے مردوں کا سنگلز ٹائٹل جیت لیا
وزیراعلیٰ کی ذاتی گاڑی
انہوں نے کہا کہ اگر بلٹ پروف گاڑیاں قابلِ قبول نہیں تو وزیراعلیٰ اپنی ذاتی گاڑی پولیس کے حوالے کر دیں۔ طلال چوہدری نے کہا کہ آرٹیکل 148 کے تحت صوبائی حکومت فیصلوں میں مکمل طور پر آزاد نہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پورے ملک کی جنگ ہے، اس لئے وزیراعلیٰ تبدیلی سے اس جنگ میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کردیا گیا
حفاظتی اقدامات کی ضرورت
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر خیبرپختونخوا پولیس کو جدید گاڑیاں فراہم کی گئیں اور وفاقی حکومت نے مالی مشکلات کے باوجود امداد کی فراہمی جاری رکھی جبکہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
خطرے کی تنبیہ
وزیرِ مملکت نے خبردار کیا کہ اس "بچگانہ" فیصلے سے کسی کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور اگر کوئی جانی نقصان ہوا تو اس کے ذمہ دار متعلقہ حکام ہوں گے۔ صوبائی حکومت نے پولیس کے جوانوں کو موثر تحفظ فراہم نہیں کیا۔








