کراچی: رینجرز اہلکاروں پر قاتلانہ حملے کے 27 سال پرانے کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا
سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں رینجرز اہلکاروں پر قاتلانہ حملے کے 27 سال پرانے کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بابا گورو نانک دیو جی کا 556واں جنم دن، 30 ہزار یاتری ننکانہ صاحب آئیں گے،سی سی ٹی وی کیمرے نصب، 3 کنٹرول رومز قائم
ملزم کی اپیل کا فیصلہ
روزنامہ جنگ کے مطابق عدالت نے ملزم عبید کے ٹو کی سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے نئی سیاسی جماعت بنا لی
ملزم کا دفاع
ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کیس کا دو بار پہلے ٹرائل ہو چکا ہے، فوجی عدالت میں ٹرائل ہوا تھا، ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سے گرفتار سارے ملزمان جیل سے رہا ہو چکے ہیں صرف عبید کے ٹو جیل میں ہے۔ ملزم عبید کے ٹو 2015 سے گرفتار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت کے 2 جہاز مار گرائے
پراسیکیوٹر کی بات
پراسیکیوٹر اقبال اعوان نے کہا کہ ملزم نے اعتراف جرم کیا ہے، اے ٹی سی نے قانون کے مطابق سزا سنائی، ملزم بریت کا حقدار نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: باب وولمر سے کئی کھلاڑیوں کی لڑائیاں ہوئیں لیکن ان کرکٹرز کو کبھی ٹیم سے نہیں نکالا: کامران اکمل
واقعے کی تفصیلات
پولیس نے کہا کہ 1998 میں اہلکار رینجرز پکٹ پر موجود جوانوں کو کھانا دینے جا رہے تھے، ملزمان نے لیاقت آباد کے علاقے میں گھات لگا کر اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی، فائرنگ سے سپاہی دلدار حسین شہید اور حوالدار ممتاز علی زخمی ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک کی جانب سے کرپٹو کرنسی پر پابندی ابھی بھی برقرار ہے، سیکرٹری خزانہ
انسداد ہشت گردی عدالت کا فیصلہ
پراسیکیوشن نے کہا کہ انسداد ہشت گردی عدالت نے 2024 میں ملزم عبید کے ٹو کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
سندھ ہائی کورٹ کا حکم
سندھ ہائی کورٹ نے ملزم عبید کے ٹو کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔








