آئین کے مطابق سہیل آفریدی قیدی نمبر 420 سے کابینہ تشکیل کے لیے صلاح مشورے کرنے کی اجازت نہیں مانگ سکتے، فیاض الحسن چوہان
فیاض الحسن چوہان کا حیرت انگیز بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ وہ بیرسٹر گوہر، بیرسٹر علی ظفر اور سلمان اکرم راجہ کے رویے پر حیران ہیں۔ یہ وکلاء "نک دا کوکا" کی تحریک کے تحت ہیں اور اڈیالہ جیل کے باہر یہ کہتے ہیں کہ جناب سہیل آفریدی کو قیدی نمبر 420 سے ملنے کی اجازت دی جائے، تاکہ وہ اپنے صوبے کی کابینہ تشکیل دینے کے لئے ان کے حکم اور پالیسی پر عمل کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف سے پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس لگانے کی کوئی بات نہیں ہو رہی، سینیٹر محمد اورنگزیب
آئینی و قانونی اصولوں کی خلاف ورزی
ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی سیاسی لیڈر یا ڈالرز کی خاطر اصولوں سے بیع کرنا والا یوٹیوبر یہ بات کرے تو سمجھ آتی ہے، لیکن جب کوئی آئین اور قانون کا معتبر طالبعلم یہ کہتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ ان نام نہاد قانون کے رکھوالوں کو سخت سزا دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے 24 نومبر کو اسلام آباد مارچ کی کال دیدی
سزا یافتہ افراد کے سیاسی حقوق
انہوں نے مزید کہا کہ 2018 کا فیصلہ واضح ہے کہ کوئی بھی سزا یافتہ شخص کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار، چیئرمین یا صدر نہیں بن سکتا۔ اس کے پاس نہ تو ٹکٹ جاری کرنے کا حق ہے، نہ ہی سیاسی پالیسی بنانے اور اس پر عمل درآمد کا۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی 2018 کی PLD میں موجود ہے اور پاکستان کے قانون کا حصہ بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی فوج میں بغاوت: جوابی بغاوت اور فوجی افسران کے درمیان اقتدار کی جنگ کی کہانی
قیدی سہیل آفریدی کی درخواست
فیاض الحسن چوہان نے یہ بھی کہا کہ سہیل آفریدی قیدی نمبر 420 کے ساتھ کھیلنے کی اجازت مانگ سکتا ہے، لیکن اپنی کابینہ کی تشکیل کے لیے صلاح مشورے کرنے کی اجازت نہیں مانگ سکتا۔ یہ عملی طور پر آئین کی خلاف ورزی ہے اور ملک کے عدالتی سسٹم کو فوری قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔
بین الاقوامی مثالیں
انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ دنیا کے کسی بھی ترقی پذیر ملک میں بھی سزا یافتہ افراد کو ایسی سیاسی و انتظامی سہولیات نہیں دی جاتیں۔
میں حیران ہوں بیرسٹر گوہر ،بیرسٹر علی ظفر اور سلمان اکرم راجہ سمیت “نک دا کوکا” کی تحریک کے دیگر وکلاء پر۔۔۔جو چھوٹتا ہے یہ کہہ کر اڈیالہ جیل کا رُخ کرتا ہے کہ جناب سہیل آفریدی کو قیدی نمبر 420 سے ملنے کی اجازت دی جائے...
— Fayaz ul Hassan Chohan (@Fayazchohanpk) October 22, 2025








