ٹیسٹ کرکٹ کا کم ہونا قومی ٹیم کی شکست کا باعث ہے، اظہر محمود
پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی ناکامی پر اظہر محمود کا بیان
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے عبوری ہیڈ کوچ اظہر محمود کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کا نہ ہونا قومی ٹیم کی شکست کا باعث ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: جمعہ و اتوار ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی عائد
ٹیسٹ میچ میں کیچز چھوڑنا
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اظہر محمود نے کہا کہ پاکستان نے کیچز ڈراپ کیے، اسٹمپ چھوڑا، بہترین ٹیم کو موقع دیں گے تو جارحانہ جواب ہی ملے گا۔
یہ بھی پڑھیں: قلات میں فتنہ الہندوستان کیخلاف کامیاب کارروائی پر وزیراعلیٰ مریم نواز کااظہار تشکر
کامیابی کے لئے وکٹیں حاصل کرنا ضروری
اظہر محمود نے کہا کہ 20 وکٹیں لینا ضروری ہوتی ہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی اسپنرز کے لیے سازگار پچز بنانی پڑیں گی۔ ڈومیسٹک میں اسپنرز کو بولنگ کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور یونیورسٹی کے رہائشی کوارٹر سے 2 خواتین کی نعشیں برآمد
بیٹنگ کولیپس کے اثرات
عبوری کوچ نے کہا کہ پاکستان کو بیٹنگ کولیپس کا سامنا کرنا پڑا جبکہ جنوبی افریقا نے پنڈی ٹیسٹ میں اچھی بیٹنگ کی۔
یہ بھی پڑھیں: تہذیبوں کے درمیان مکالمہ ہی امن، ترقی اور انسانیت کا راستہ ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
بیٹرز کی تنقید
اظہر محمود نے اپنے بیٹرز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسکور کرنے کا طریقہ آنا چاہیے، اسٹرائیک روٹیٹ کرنی چاہیے تھی، جنوبی افریقا نے بلاک نہیں کیا، رنز اسکور کیے۔
یہ بھی پڑھیں: اسد قیصر کی وفد کے ساتھ مولانا سے ملاقات ، میڈیا سے گفتگو کیے بغیر روانہ ہوگئے
ذہن کی مضبوطی کی ضرورت
ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں دماغی طور پر مضبوط ہونا چاہیے۔ پاکستان کو اسپنرز کے خلاف اچھی بیٹنگ کرنا سیکھنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی امریکی ملک کے سربراہ کو منشیات اسمگلنگ کا رہنما قرار دے دیا
جنوبی افریقا کی بولنگ کا تجربہ
عبوری کوچ نے کہا کہ جنوبی افریقا کے پاس بولنگ میں کافی تجربہ ہے۔ راولپنڈی ٹیسٹ کی پِچ نے ہر طرح کے بولرز کو مدد دی۔
ڈومیسٹک کرکٹ کا تجربہ
اظہر محمود نے کہا کہ پاکستانی بیٹرز کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ گزشتہ سال ٹیسٹ میچز بھی صرف چار ہی کھیلے، زیادہ میچز کھیلیں گے تو تجربہ حاصل ہوگا۔








