ٹیسٹ کرکٹ کا کم ہونا قومی ٹیم کی شکست کا باعث ہے، اظہر محمود
پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی ناکامی پر اظہر محمود کا بیان
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے عبوری ہیڈ کوچ اظہر محمود کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کا نہ ہونا قومی ٹیم کی شکست کا باعث ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جھکنا، بک جانا یا ڈرنا کبھی نہیں سیکھا۔ 10 سال سزا عمران خان سے وفاداری کی وجہ سے دی گئی، زرتاج گل
ٹیسٹ میچ میں کیچز چھوڑنا
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اظہر محمود نے کہا کہ پاکستان نے کیچز ڈراپ کیے، اسٹمپ چھوڑا، بہترین ٹیم کو موقع دیں گے تو جارحانہ جواب ہی ملے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس منصور علی نے قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کا حلف اٹھا لیا
کامیابی کے لئے وکٹیں حاصل کرنا ضروری
اظہر محمود نے کہا کہ 20 وکٹیں لینا ضروری ہوتی ہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی اسپنرز کے لیے سازگار پچز بنانی پڑیں گی۔ ڈومیسٹک میں اسپنرز کو بولنگ کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ: طارق جہانگیری کی درخواست پر سماعت چھٹیوں کے بعد تک ملتوی
بیٹنگ کولیپس کے اثرات
عبوری کوچ نے کہا کہ پاکستان کو بیٹنگ کولیپس کا سامنا کرنا پڑا جبکہ جنوبی افریقا نے پنڈی ٹیسٹ میں اچھی بیٹنگ کی۔
یہ بھی پڑھیں: تاتاریوں سے امریکی فوج تک: بغداد کے عروج و زوال کی کہانی، دنیا کے سب سے امیر شہر کا ماضی
بیٹرز کی تنقید
اظہر محمود نے اپنے بیٹرز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسکور کرنے کا طریقہ آنا چاہیے، اسٹرائیک روٹیٹ کرنی چاہیے تھی، جنوبی افریقا نے بلاک نہیں کیا، رنز اسکور کیے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ سب سیاسی کیریئر بچانے کے لیے مودی کا ڈرامہ ہے۔ پاکستانی عوام مودی کی اصلیت جان گئی۔
ذہن کی مضبوطی کی ضرورت
ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں دماغی طور پر مضبوط ہونا چاہیے۔ پاکستان کو اسپنرز کے خلاف اچھی بیٹنگ کرنا سیکھنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: نور مقدم قتل کیس؛سپریم کورٹ نے مجرم ظاہر جعفرکی اپیل پر فیصلہ سنا دیا
جنوبی افریقا کی بولنگ کا تجربہ
عبوری کوچ نے کہا کہ جنوبی افریقا کے پاس بولنگ میں کافی تجربہ ہے۔ راولپنڈی ٹیسٹ کی پِچ نے ہر طرح کے بولرز کو مدد دی۔
ڈومیسٹک کرکٹ کا تجربہ
اظہر محمود نے کہا کہ پاکستانی بیٹرز کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ گزشتہ سال ٹیسٹ میچز بھی صرف چار ہی کھیلے، زیادہ میچز کھیلیں گے تو تجربہ حاصل ہوگا۔








