بلوچستان میں حکومت کے حوالے سے 2 بڑی جماعتوں میں کیا کوئی ’’معاہدہ‘‘ ہوا تھا۔؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔
بلوچستان میں حکومت سازی: کیا کوئی معاہدہ ہوا؟
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان میں حکومت کے حوالے سے 2 بڑی جماعتوں میں کیا کوئی ’’معاہدہ‘‘ ہوا تھا؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔ ’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اڑھائی اڑھائی سال کی مدت کے معاہدے کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ہسپتالوں میں سٹیٹ آف دی آرٹ ریفرل سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ، وزیراعلیٰ مریم نوازنے جامع پلان طلب کر لیا
مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی وضاحت
مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی مرکزی قیادت نے اڑھائی اڑھائی سال کے معاہدے سے آگاہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جالندھر کے سکول میں جہاں 120 جڑواں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں: ‘کلاس سے باہر جانے والے کو ایک ڈانٹ آتی ہے، اور دوسرے کو سزا ملتی ہے’
پیپلز پارٹی کا ردعمل
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ ان کی نظر سے نہیں گزرا اور بلوچستان میں پی پی اپنے 5 سال کی مدت پوری کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 4 ہزار 200 روپے کمی
زرک خان مندوخیل کا بیان
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی زرک خان مندوخیل نے بتایا کہ ہماری قیادت نے کہا کہ بلوچستان میں اڑھائی اڑھائی سال حکومت کرنے کا معاہدہ ہے۔ جب حکومت بن رہی تھی تو بتایا گیا کہ معاہدہ تحریری شکل میں ہے۔ اڑھائی سال کچھ ہی ماہ میں پورے ہونے والے ہیں، پھر سب معلوم ہوجائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: محفوظ جیل منصوبہ ، پنجاب کی 43 جیلوں میں 9ہزار سے زائدجدید کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ
میر صادق عمرانی کا موقف
اس حوالے سے پی پی رہنما اور صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکومت سازی کے وقت کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا اور پیپلز پارٹی کی حکومت 5 سال پورے کرے گی۔ اگر وفاقی میں پیپلز پارٹی اپنی حمایت واپس لے، تو (ن) لیگ کی حکومت ختم ہوجائے گی۔
علی مدد جتک کی باتیں
پیپلز پارٹی بلوچستان کے رہنما اور رکن اسمبلی علی مدد جتک کا کہنا تھا کہ اگر (ن) لیگ اور پی پی کی قیادت نے ایسا معاہدہ بنایا ہے تو اڑھائی سال پورے ہونے پر بلاول بھٹو وزیراعظم بنیں گے۔ ہم بھی اڑھائی سال پورے ہونے پر مسلم لیگ (ن) کو بلوچستان حکومت دے دیں گے۔








