بلوچستان میں حکومت کے حوالے سے 2 بڑی جماعتوں میں کیا کوئی ’’معاہدہ‘‘ ہوا تھا۔؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔
بلوچستان میں حکومت سازی: کیا کوئی معاہدہ ہوا؟
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان میں حکومت کے حوالے سے 2 بڑی جماعتوں میں کیا کوئی ’’معاہدہ‘‘ ہوا تھا؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔ ’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اڑھائی اڑھائی سال کی مدت کے معاہدے کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل طلب کرلیا
مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی وضاحت
مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی مرکزی قیادت نے اڑھائی اڑھائی سال کے معاہدے سے آگاہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے سینکڑوں طلباء کے لیے خوشخبری، پاکستان نے تعلیم کے دروازے بھی کھول دیے
پیپلز پارٹی کا ردعمل
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ ان کی نظر سے نہیں گزرا اور بلوچستان میں پی پی اپنے 5 سال کی مدت پوری کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا امکان
زرک خان مندوخیل کا بیان
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی زرک خان مندوخیل نے بتایا کہ ہماری قیادت نے کہا کہ بلوچستان میں اڑھائی اڑھائی سال حکومت کرنے کا معاہدہ ہے۔ جب حکومت بن رہی تھی تو بتایا گیا کہ معاہدہ تحریری شکل میں ہے۔ اڑھائی سال کچھ ہی ماہ میں پورے ہونے والے ہیں، پھر سب معلوم ہوجائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہد آفریدی نے سونالی باندرے سے تعلقات پر خاموشی توڑ دی
میر صادق عمرانی کا موقف
اس حوالے سے پی پی رہنما اور صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکومت سازی کے وقت کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا اور پیپلز پارٹی کی حکومت 5 سال پورے کرے گی۔ اگر وفاقی میں پیپلز پارٹی اپنی حمایت واپس لے، تو (ن) لیگ کی حکومت ختم ہوجائے گی۔
علی مدد جتک کی باتیں
پیپلز پارٹی بلوچستان کے رہنما اور رکن اسمبلی علی مدد جتک کا کہنا تھا کہ اگر (ن) لیگ اور پی پی کی قیادت نے ایسا معاہدہ بنایا ہے تو اڑھائی سال پورے ہونے پر بلاول بھٹو وزیراعظم بنیں گے۔ ہم بھی اڑھائی سال پورے ہونے پر مسلم لیگ (ن) کو بلوچستان حکومت دے دیں گے۔








