بلوچستان میں حکومت کے حوالے سے 2 بڑی جماعتوں میں کیا کوئی ’’معاہدہ‘‘ ہوا تھا۔؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔
بلوچستان میں حکومت سازی: کیا کوئی معاہدہ ہوا؟
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان میں حکومت کے حوالے سے 2 بڑی جماعتوں میں کیا کوئی ’’معاہدہ‘‘ ہوا تھا؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔ ’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اڑھائی اڑھائی سال کی مدت کے معاہدے کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پبلک سروس کمیشن نے 4محکموں میں مختلف اسامیوں کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا
مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی وضاحت
مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی مرکزی قیادت نے اڑھائی اڑھائی سال کے معاہدے سے آگاہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے احتجاج میں 3117 ہلاکتوں کی تصدیق، 2427 افراد شہید قرار
پیپلز پارٹی کا ردعمل
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ ان کی نظر سے نہیں گزرا اور بلوچستان میں پی پی اپنے 5 سال کی مدت پوری کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ہنزہ: جھیل میں سیوریج پانی چھوڑنے والے ہوٹل کا ایک حصہ سیل کر دیا گیا، سیاح کا اظہارِ تشکر
زرک خان مندوخیل کا بیان
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی زرک خان مندوخیل نے بتایا کہ ہماری قیادت نے کہا کہ بلوچستان میں اڑھائی اڑھائی سال حکومت کرنے کا معاہدہ ہے۔ جب حکومت بن رہی تھی تو بتایا گیا کہ معاہدہ تحریری شکل میں ہے۔ اڑھائی سال کچھ ہی ماہ میں پورے ہونے والے ہیں، پھر سب معلوم ہوجائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: انوائرمنٹل اپرول مینجمنٹ سسٹم اور گاڑیوں کیلئے ایمیشن ٹیسٹنگ سسٹم لانچ، بلیو سکواڈ آبی ذخائرکو محفوظ رکھنے کا ذمہ دار قرار
میر صادق عمرانی کا موقف
اس حوالے سے پی پی رہنما اور صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکومت سازی کے وقت کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا اور پیپلز پارٹی کی حکومت 5 سال پورے کرے گی۔ اگر وفاقی میں پیپلز پارٹی اپنی حمایت واپس لے، تو (ن) لیگ کی حکومت ختم ہوجائے گی۔
علی مدد جتک کی باتیں
پیپلز پارٹی بلوچستان کے رہنما اور رکن اسمبلی علی مدد جتک کا کہنا تھا کہ اگر (ن) لیگ اور پی پی کی قیادت نے ایسا معاہدہ بنایا ہے تو اڑھائی سال پورے ہونے پر بلاول بھٹو وزیراعظم بنیں گے۔ ہم بھی اڑھائی سال پورے ہونے پر مسلم لیگ (ن) کو بلوچستان حکومت دے دیں گے۔








