سید سرور منیر — باوقار استاد، دیندار شخصیت اور ایک روشن خاندان کے معمار
تحریر: وقار ملک
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے پالیسی منظور
سید سرور منیر کی شاندار شخصیت
سید سرور منیر صاحب، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے والدِ محترم، ایک ایسی عظیم اور باوقار تعلیمی و دینی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی زندگی علم، اخلاق اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دی۔ وہ سی بی ٹیکنیکل ہائی اسکول طارق آباد، لال کرتی (راولپنڈی کینٹ) میں 1972ء سے 1985ء تک پرنسپل کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کے دورِ پرنسپل شپ میں نظم و ضبط، دیانت داری، اور طلبہ کی ہمہ جہت تربیت ان کے تعلیمی ادارے کی پہچان بن گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: فخر زمان اور صاحبزادہ فرحان کا تگڑا لاٹھی چارج، پاکستان نے سری لنکا کو جیت کیلئے بڑا ہدف دے دیا
تعلیمی خدمات اور دینی کردار
سید سرور منیر جالندھر سے ہجرت کے بعد پاکستان آئے اور یہاں تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔ انہوں نے تعلیم کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک عبادت کے طور پر اپنایا۔ ان کے شاگرد آج بھی اُن کی شخصیت کو شفقت، راست گوئی اور خلوص کی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کا طرزِ تربیت ایسا تھا کہ ہر طالبِ علم خود اعتمادی، سچائی اور محنت کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ نے دینی میدان میں بھی خدمات انجام دیں۔ ڈھیری حسن آباد، راولپنڈی کے محلے میں واقع مسجد القریش کے آپ امام بھی رہے۔ آپ کی تلاوت میں نور اور خطبوں میں اثر تھا۔ لوگ آپ کے درس و نصیحت کے دلدادہ تھے، اور آپ کو محلے کا روحانی بزرگ مانتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے لیہ میں سولر پاور پلانٹ کی تنصیب کا فیصلہ کر لیا
محلے کی یادیں
سید سرور منیر صاحب کا گھر ڈھیری حسن آباد میں کنٹونمنٹ بورڈ ڈسپنسری کے سامنے والی گلی میں داخل ہوتے ہی بائیں جانب واقع تھا۔ اُسی گلی کے سامنے ایک گراؤنڈ تھا جہاں بچے اور نوجوان اکثر کرکٹ کھیلتے — یہی وہ جگہ تھی جہاں سید سرور منیر، اُن کے صاحبزادے سید ہاشم منیر اور سید قاسم منیر اکثر نظر آتے۔ سید قاسم منیر صاحب چونکہ ملٹری اکاؤنٹس میں ملازمت کرتے تھے، لہٰذا اکثر ملاقات کے دوران بات چیت، ملکی حالات، اور ذاتی زندگی کے موضوعات پر خوبصورت گفتگو ہوتی۔ میں خود بھی کئی بار وہاں موجود ہوتا، سردیوں کی دھوپ میں ہم سب اکٹھے بیٹھ کر چائے پیتے، اور سید سرور منیر صاحب کی گفتگو سے علم و دانائی کے موتی بکھیرتے۔
یہ بھی پڑھیں: یونیسکو کا پاکستان میں میڈیا اینڈ انفارمیشن لٹریسی کی حکمت عملی پر مشاورت کا آغاز
دوستی اور تعلقات
میرے والد محترم محمد سلیمان مرحوم اور سید سرور منیر صاحب کے درمیان نہایت خوشگوار تعلقات تھے۔ وہ اکثر اپنے پنشن کے معاملات کے حوالے سے میرے والد کے پاس آتے، لیکن ان ملاقاتوں میں صرف کاغذی باتیں نہیں ہوتیں بلکہ محبت، عزت اور گہری دوستی کی جھلک نمایاں ہوتی۔ اکثر اوقات وہ دونوں مسجد میں اکٹھے نماز ادا کرتے، اور بعد ازاں دیر تک بیٹھ کر زندگی، دین اور حالاتِ وطن پر گفتگو کرتے۔ یہ مناظر محلے میں اخوت، ایمان اور بھائی چارے کی ایک خوبصورت مثال ہوا کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں سال 2025 کے دوران دہشت گردی کے 940 واقعات ، 745 دہشت گرد مارے گئے
خاندان کی کامیابیاں
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ماموں بابر شاہ صاحب اس خاندان کی ایک اور قابلِ فخر ہستی ہیں۔ ان کے چہرے کی روشنی، نگاہوں کی چمک اور دل کی نرمی ان کی روحانی تربیت کی عکاسی کرتی ہے۔ بابر شاہ صاحب ہمیشہ خدمتِ انسانیت، دیانت داری، اور محبتِ وطن میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ان کے کردار میں خلوص، عاجزی اور اللہ کی رضا کے لیے کام کرنے کا جذبہ نمایاں ہے۔ ایسے ہی بزرگوں اور رشتہ داروں نے اس خاندان کو نورِ ایمان اور خدمتِ وطن کے جذبے سے مزین کیا ہے یہ خاندان محض نسب کی بنیاد پر نہیں بلکہ اعمال، کردار اور ایثار کی بنیاد پر عظیم ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ ہیں، اور اُن کے اندر جو ایمان، قیادت اور فرض شناسی نظر آتی ہے، وہ انہی خاندانی اقدار اور والدین کی تربیت کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زارا نور کی خواتین کو خوبصورت نظر آنے کے لیے ادویات کا استعمال نہ کرنے کی اپیل
پاکستان کی خدمت
جنرل سید عاصم منیر نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور اپنی دیانت، فرض شناسی اور قیادت سے پاکستان کا نام روشن کیا۔ دشمن کو جب بھی پاکستان کی سرحدوں پر نظر اٹھانے کی جسارت ہوئی، تو جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے ایسا دندان شکن جواب دیا کہ دنیا حیران رہ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ پر جعل سازی سے ہانگ کانگ جانے والے 5 مسافر آف لوڈ
پاکستان کی مضبوطی
آج پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور اس کی قیادت ایمان، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں پر عمل پیرا ہے۔ یہ سب کچھ اُن مخلص والدین کی تربیت اور دعاوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے اپنے بچوں کے دلوں میں دین اور وطن کی محبت کو بسا دیا۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان کو کسی خطرے کا سامنا ہوا، تو پاک فوج نے ایمان، ہمت، اور قربانی کے جذبے سے اس کا مقابلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی ’’ آف کلر ‘‘نظر آئے
تاریخی قیادت
جنرل سید عاصم منیر نے ایسی شاندار قیادت کا مظاہرہ کیا جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ اُنہوں نے اپنی حکمتِ عملی، جرأت اور وطن سے بے پناہ محبت کے ذریعے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔ دشمن کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اور پوری دنیا نے پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور بہادری کو سراہا۔
نتیجہ
یہ پاکستان کی فتح صرف اس کے ہتھیاروں کی نہیں، بلکہ ایمان، عزم، اور قیادت کی فتح تھی۔ آج پاکستان ایک مضبوط، پرعزم، اور متحد قوم کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر جگمگارہا ہے — اور اس کی قیادت وہ سپاہی کر رہے ہیں جو “لبیک” کہتے ہوئے وطن پر مر مٹنے کو اپنی سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔








