علاقائی روابط میں اضافے سے معاشی اورتجارتی شعبے میں انقلاب آئے گا: وزیراعظم
پاکستان اقتصادی راہداری کا دوسرا مرحلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، علاقائی روابط میں اضافے سے معاشی اور تجارتی شعبے میں انقلاب آئے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی دارالحکومت میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ کے حوالے سے مہلت کی ڈیڈلائن ختم
کانفرنس کی اہمیت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرزکانفرنس کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اور عوام کی جانب سے شریک مندوبین کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس نے بات چیت کا اہم موقع فراہم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: بیوی پر تیزاب ڈال کر زندہ جلانے والے شوہر کو سزائے موت سنا دی گئی
علاقائی روابط کی توسیع
وزیراعظم نے کہا کہ کانفرنس دوطرفہ اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے اہم ہے، عالمی سطح پر ٹرانسپورٹ اور روابط کے نظام میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ ہمارا خطہ موجودہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو تک روابط کا محور رہا ہے۔ معیشت کی بڑھتی اہمیت نے اس قدیم گزرگاہ کی اہمیت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیر ستان میں لیفٹیننٹ کرنل اور جوانوں کی شہادت: وزیر اعلیٰ کا سوگوار خاندانوں سے اظہار تعزیت
کاروباری روابط اور مشترکہ خوشحالی
شہباز شریف نے کہا کہ گوادر کی طویل ساحلی پٹی اور کراچی کی بندرگاہ میری ٹائم سلک روڈ میں شامل ہیں۔ پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہورہا ہے، کاروباری روابط، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی پر توجہ مرکوز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بھارت سے آبی جارحیت کا بھی بدلہ لے گا، گورنر سندھ
نئے اقتصادی منصوبے
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم ٹرانس افغان ریلوے، اسلام آباد، تہران، استنبول ریلوے کوریڈور پر کام کررہے ہیں۔ علاقائی روابط میں اضافے سے معاشی اور تجارتی شعبے میں انقلاب آئے گا۔ بڑے منصوبے خطے کی اقتصادی صلاحیتوں کو یکجا کریں گے، اور تجارت، معیشت اور توانائی میں تعاون سے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
ڈیجیٹل دور میں پیشرفت
وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں روابط صرف سڑک، ریل یا فضائی راستوں تک محدود نہیں۔ آج کا دور ڈیٹا اور تکنیکی انضمام سے وابستہ ہے۔ پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبے میں سرمایہ کاری کررہا ہے، اور نوجوان نسل کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تربیت کی فراہمی ترجیح ہے.








