پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے کیس میں ریمارکس، آئی جی اسلام آباد و دیگر طلب
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاتون اور کمسن بچیوں کے مبینہ اغوا کے معاملے پر متاثرہ خاندان کے خلاف درج مقدمات کے اخراج کی درخواست پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر داخلہ کا اسلام آباد میں 30 ستمبر تک تجاوزات کے مکمل خاتمے کا حکم
پولیس کے اعلیٰ حکام کی طلبی
عدالت نے آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی، ڈی جی ایف آئی اے کو منگل کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں گاڑی کی ٹکر سے 2 لڑکیوں کی ہلاکت کا کیس، جج کے کم عمر بیٹے کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میں دے دیا گیا
تاریخی پس منظر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کمسن بچیوں کے مبینہ اغوا کے معاملے پر متاثرہ خاندان کے خلاف درج مقدمات کے اخراج کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: بہرحال فیصلے تو بڑوں نے ہی کرنے ہوتے ہیں، پڑھائی تو ٹھیک کر رہی تھی لیکن چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ چلتا ہی رہا، اکثر سکول ٹیچرز کا بلاوا آجاتا اور مجھے جانا پڑتا
جسٹس کی سرزنش
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ لاہور سے 17 ستمبر کو 3 بچیوں اور ان کی والدہ کو اٹھایا گیا، پولیس نے 20 ستمبر کو خاتون اور بچیوں کو ایف آئی آر میں نامزد کیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کی سرزنش کرتے ہوئے پوچھا، "کیوں نہ آپ کو گھر بھیج دیا جائے؟"
کیس کی مزید تحقیقات
عدالت نے ڈی ایس پی سی آئی اے کو بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا، اور ڈی جی ایف آئی اے کو جے آئی ٹی بنا کر معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی۔








