اسموگ الرٹ کے بعد تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیاں قبل از وقت ہونے کا امکان
اسموگ الرٹ اور تعلیمی اداروں کی تعطیلات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسموگ الرٹ کے بعد تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کے حوالے سے بڑی خبر آگئی، کیا گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی قبل از وقت چھٹیاں دی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات خطے کو کشیدگی کی طرف لے جائیں گے: دفتر خارجہ
محکمہ موسمیات کی تشویشی رپورٹ
پبلک نیوز کے مطابق محکمہ موسمیات نے پنجاب کے مختلف شہروں، خصوصاً لاہور میں بڑھتی ہوئی اسموگ کے حوالے سے تشویشناک الرٹ جاری کیا ہے ، جس سے تعلیمی سرگرمیوں پر بھی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی قونصل جنرل جدہ خالد مجید کو کشمیر کمیٹی جدہ کا خراج تحسین
خطرناک ہوا کا معیار
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ خشک موسم کے باعث آئندہ دنوں میں اسموگ کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ آج پھر لاہور دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر قرار پایا ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) خطرناک حد 362 تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس میں نمایاں بہتری ریکارڈ، پنجاب ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں اپنی کارکردگی کا ریکارڈ خود توڑے گا: مریم نواز
گزشتہ سال کی تجربات
گزشتہ سال پنجاب حکومت نے 3 نومبر سے ایک ہفتے کے لیے تعلیمی ادارے بند کیے تھے، بعد ازاں تعطیلات میں ایک ہفتے کی توسیع بھی کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: گجرات: دیرینہ دشمنی پر فائرنگ سے 2 افراد قتل
حکومتی فیصلوں کا انتظار
اس سال حکومتِ پنجاب اور محکمۂ تعلیم صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، تاہم تاحال اسکول بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف
اسکولوں کی ممکنہ بندش
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اسموگ کی شدت میں اضافہ ہوا تو پرائمری سطح کے اسکولوں کی بندش کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: امن کی امید کے ساتھ غزہ پیس بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے، وزیر اعظم شہباز شریف
فضائی آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح
محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں فضائی آلودگی کی سطح مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس کے باعث مشرقی پنجاب کے شہروں میں فضائی معیار مزید خراب ہو سکتا ہے۔
صحت کے خطرات
ماہرین کے مطابق آلودہ فضا میں سانس کی بیماریوں، نزلہ، کھانسی اور آنکھوں کی جلن کے کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ بچے، بزرگ اور مریض اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں。








