پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا عالمی اعتراف، امریکی جریدے نے ’خطے کا فاتح‘ قرار دے دیا
پاکستان کی حکومتی اور عسکری ڈپلومیسی کی تعریف
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا کے جریدے 'فارن پالیسی' نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان کی حکومتی سفارتکاری اور عسکری ڈپلومیسی کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسلام آباد کو خطے کا سفارتی فاتح قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں کس موضوع پر تفصیلی بحث ہو گی؟ سینئر صحافی صالح ظافر نے بتا دیا
پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی
امریکی جریدے کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی نے عالمی منظرنامہ بدل کر سفارتکاری میں نئے افق کھول دیے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان کی سفارتکاری نے خطے میں نئی جہتیں متعارف کراتے ہوئے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس اور صحافیوں کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا، صدر پی یو جے نعیم حنیف کے گھر چھاپہ
بین الاقوامی تعلقات میں نیا باب
امریکا سے تعلقات کی بحالی، ترکی، ملائیشیا اور ایران کے ساتھ معاہدوں اور چین سے تعلقات کے فروغ نے بین الاقوامی تعلقات میں نیا باب رقم کیا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے اسٹرٹیجک دفاعی معاہدے نے خطے میں ایک نئی سفارتی لہر پیدا کی ہے جو پاکستان کی کامیابی کا واضح مظہر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے یکم جولائی کو تعطیل کا اعلان کردیا
اسلام آباد اور واشنگٹن کے نئے تعلقات
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے نئے تعلقات کی شروعات کچھ پیش آنے والے غیر متوقع واقعات سے ہوئی، جن میں پاکستان کا داعش خراسان کے ایک اہم دہشتگرد کو گرفتار کرنا شامل تھا، جو کابل ایئرپورٹ حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔فارغ پالیسی میگزین نے لکھا کہ امریکی سینٹ کام کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا نے پاکستان کے انسداد دہشتگردی تعاون کو 'غیر معمولی اور مؤثر' قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماہنتی پیڈ آؤٹ ڈور کرکٹ ٹورنامنٹ سیزن 3 کا اختتام، گولڈ اسپانسر محمد علی ماہنتی نے فاتح ٹیم کو ٹرافی سے نوازا، شیراز وڑائچ بہترین کھلاڑی قرار پائے
امریکا اور بھارت کے تعلقات میں دراڑ
امریکا اور پاکستان کے تعلقات کی بحالی نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے رشتوں میں دراڑ پیدا کی ہے، جبکہ بھارت کو سابق صدر ٹرمپ کے پاکستان کی طرف جھکاؤ سے 25 سالہ سفارتی محنت اور اعتماد کے ضیاع کا خدشہ لاحق ہے۔
ٹرمپ اور مودی کی تلخ گفتگو
ٹرمپ اور مودی کی تلخ فون کال کے بعد امریکا اور بھارت کے تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں، جس نے پاکستان کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں۔ سابق صدر ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: شهرقائد میں بچوں سے زیادتی کا اسکینڈل، ملزم نے عدالت میں اعتراف جرم کرلیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹرمپ کی ملاقات
جون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹرمپ کی دو گھنٹے طویل ملاقات نے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی گرمجوشی پیدا کی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ٹرمپ کی ملاقاتیں اور غزہ امن کانفرنس میں شرکت پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کا مظہر بنیں۔
یہ بھی پڑھیں: مذہب اسلام اور اللہ کی شریعت میں استثنی کی کوئی گنجائش نہیں، مذہبی سکالر جاوید احمد غامدی
تجارتی کامیابیاں
پاکستان نے ٹرمپ دور میں شاندار تجارتی پیکیج حاصل کرکے سفارتکاری میں نیا سنگ میل عبور کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی مؤثر سفارتکاری کے باعث ایک امریکی کمپنی نے 500 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کی عالمی حیثیت
پاکستان نے غیر نیٹو اتحادی ہوتے ہوئے بھی امریکا، چین اور سعودی عرب سے بیک وقت تعلقات مضبوط کرنے کی قابل رشک صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس متوازن خارجہ پالیسی اور موثر سفارتکاری نے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک اہم کھلاڑی کے طور پر متعارف کرایا ہے。








