وزیراعظم شہباز شریف ریاض میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو میں شرکت کریں گے
وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر نویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو میں شرکت کے لیے کل ریاض جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کلاسیکل موسیقی کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جارہا ہے، فن لطیفہ میں بھی سیاست گھس گئی : مظہر امرا ؤ
ڈورے کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد 27 سے 29 اکتوبر تک سعودی عرب کا تین روزہ دورہ کرے گا، وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت سینئر وزرا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حافظ آباد: پی ٹی آئی کے ضلعی سیکرٹریٹ پر تالا لگادیا گیا
فیچر انویسٹمنٹ انیشیٹو
ریاض میں ہونے والے فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو کے نویں ایڈیشن کا موضوع ’خوشحالی کی کُنجی: ترقی کی نئی راہوں کو کھولنا‘ ہے جس میں عالمی رہنما، سرمایہ کار اور پالیسی ساز شرکت کریں گے۔ فورم کے شرکا عالمی چیلنجز اور مواقعوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے جدت، پائیداری، اقتصادی شمولیت، اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں جیسے اہم موضوعات پر توجہ مرکوز کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عروب جتوئی سے رشوت لینے کا مقدمہ، این سی سی آئی اے کے گرفتار افسران کا مزید 3 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور
ملاقاتیں اور بات چیت
اس دوران وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں متوقع ہیں جن میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور انسانی وسائل کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر غور کیا جائے گا، باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی بات چیت ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر بارات لے کر دلہنیا لینے پہنچ گئے
بین الاقوامی رہنماؤں سے ملاقاتیں
وزیراعظم فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو کی سائیڈ لائنز پر دیگر ممالک کے رہنماؤں اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے، یہ ملاقاتیں پاکستان کی سرمایہ کاری کی صلاحیت کے علاوہ اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہیں کہ تھنک، ایکسچینج، اور ایکٹ ماڈل کے مطابق پائیدار ترقی میں تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔
اقتصادی سفارت کاری کا فروغ
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ اقتصادی سفارت کاری کو آگے بڑھانے اور سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی میں سٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔








