کانوں کے پردے پھاڑ دینے والے انجنوں کی پاں پاں۔ ٹھکا ٹھک بدلتی پٹریاں اور دریا کا پل عبور کرتے وقت مدھر سی آواز کون فراموش کر سکتا ہے۔
مصنف کی تفصیل
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 291
یہ بھی پڑھیں: وہ سمارٹ فونز جن پر اب واٹس ایپ کو استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا
دور جدید کی آوازیں
کانوں کے پردے پھاڑ دینے والے دور جدید کے انجنوں کی پاں پاں۔ ٹھکا ٹھک بدلتی ہوئی پٹریاں یا دریا کا پل عبور کرتے وقت گاڑی کی ایک مخصوص اور مدھر سی آواز، مختلف سمتوں سے آنے والی گاڑیوں کی کراسنگ کی مختصر سی مگر دبی دبی سی سرسراہٹ جو بس چند سیکنڈوں میں ہی ختم ہوجاتی ہے، انھیں بھلا کون فراموش کر سکتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: Islamabad Police Officer Dies from Injuries Sustained in PTI Protest Stone-Throwing
ریل گاڑی کی یادیں
پھر اسٹیشن پر گاڑی کی آمد کے وقت بجائی جانے والی گھنٹیوں یا منزل پر مسافروں کو اتار کر روانہ ہوتے وقت وسل کی آواز، غرض ریل گاڑی کے حوالے سے پیدا ہونے والی ہر آواز اپنے اندر کچھ اچھی یادیں ہی سمیٹے ہوئے ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی سے نہ کوئی ڈیل ہوئی نہ ہوگی، 24 نومبر کو ایک بات ہوئی تھی کہ ۔۔۔؟ رانا ثناء اللہ کھل کر بول پڑے
خوشگوار سفری تجربات
دور ماضی میں جب دو تین دن کا سفر مکمل ہوتا تھا تو کھڑکیاں کھلی ہونے کی وجہ سے یہ رنگ برنگی آوازیں مسلسل اور شدت کے ساتھ سماعتوں سے ٹکراتیں۔ اپنے ٹھکانوں پر پہنچنے کے بعد بھی کم از کم ایک رات تک تو یہ خوش آہنگ صدائیں ذہن میں گونجتی رہتی ہیں، ہر گھڑی یہی لگتا ہے کہ ابھی بھی عالم سفر میں ہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 53 کروڑ روپے بینک فراڈ کیس، اداکارہ نادیہ حسین کے شوہر عاطف خان کی 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور
مسافروں پر اثرات
ایسی ہی چند آوازوں کو موضوع بنا کر ایک بار پھر ریل گاڑی کی پراسرار مگر رومانوی دنیا میں اترتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ریل گاڑی کے انگ انگ سے پھوٹتی ہوئی یہ آوازیں مسافروں کے مزاج پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پیپلز پارٹی ریاض ریجن کی جانب سے پی پی پی کے 58ویں یومِ تاسیس کی تقریب کا انعقاد
متنوع آوازیں
جب ریل سے متعلقہ آوازوں کی بات کرتے ہیں تو اس میں صرف سیٹی یا وسل کی آواز ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ مختلف اقسام کی آوازیں منسوب ہوتی ہیں۔ گاڑی جب پٹری پر دوڑتی ہے تو اس کی رفتار کے مطابق مختلف آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ اگر کسی وجہ سے یہ آوازیں ہلکی پڑ جائیں، ان میں تعطل آجائے یا ان کا انداز اور درمیانی وقفہ بدل جائے تو مسافر لمحے بھر کو چونک ضرور جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف نے قومی اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا
سابقہ تجربات
اب تو قصہ پارینہ ہوا، جب دھکانی انجن چلتے تھے تو اس کی اپنی ایک مسحور کن آواز ہوا کرتی تھی۔ سب سے پہلے تو مسلسل ہلکی ہلکی خارج ہوتی ہوئی بھاپ کی سرسراہٹ سنائی دیتی تھی۔
ختم ہوا سفر
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








