کانوں کے پردے پھاڑ دینے والے انجنوں کی پاں پاں۔ ٹھکا ٹھک بدلتی پٹریاں اور دریا کا پل عبور کرتے وقت مدھر سی آواز کون فراموش کر سکتا ہے۔
مصنف کی تفصیل
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 291
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بیورو کریسی میں تقرر و تبادلے
دور جدید کی آوازیں
کانوں کے پردے پھاڑ دینے والے دور جدید کے انجنوں کی پاں پاں۔ ٹھکا ٹھک بدلتی ہوئی پٹریاں یا دریا کا پل عبور کرتے وقت گاڑی کی ایک مخصوص اور مدھر سی آواز، مختلف سمتوں سے آنے والی گاڑیوں کی کراسنگ کی مختصر سی مگر دبی دبی سی سرسراہٹ جو بس چند سیکنڈوں میں ہی ختم ہوجاتی ہے، انھیں بھلا کون فراموش کر سکتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: مصری شہریوں نے غزہ تک امداد پہنچانے کے لیے منفرد مہم ’’سمندر سے سمندر‘‘ شروع کردی
ریل گاڑی کی یادیں
پھر اسٹیشن پر گاڑی کی آمد کے وقت بجائی جانے والی گھنٹیوں یا منزل پر مسافروں کو اتار کر روانہ ہوتے وقت وسل کی آواز، غرض ریل گاڑی کے حوالے سے پیدا ہونے والی ہر آواز اپنے اندر کچھ اچھی یادیں ہی سمیٹے ہوئے ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ننکانہ میں بھی بھارتی ڈرون گرا دیاگیا
خوشگوار سفری تجربات
دور ماضی میں جب دو تین دن کا سفر مکمل ہوتا تھا تو کھڑکیاں کھلی ہونے کی وجہ سے یہ رنگ برنگی آوازیں مسلسل اور شدت کے ساتھ سماعتوں سے ٹکراتیں۔ اپنے ٹھکانوں پر پہنچنے کے بعد بھی کم از کم ایک رات تک تو یہ خوش آہنگ صدائیں ذہن میں گونجتی رہتی ہیں، ہر گھڑی یہی لگتا ہے کہ ابھی بھی عالم سفر میں ہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان برف پگھل رہی ہے؟
مسافروں پر اثرات
ایسی ہی چند آوازوں کو موضوع بنا کر ایک بار پھر ریل گاڑی کی پراسرار مگر رومانوی دنیا میں اترتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ریل گاڑی کے انگ انگ سے پھوٹتی ہوئی یہ آوازیں مسافروں کے مزاج پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ، وزیراعظم پاکستان نے بھارت کو غیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کردی
متنوع آوازیں
جب ریل سے متعلقہ آوازوں کی بات کرتے ہیں تو اس میں صرف سیٹی یا وسل کی آواز ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ مختلف اقسام کی آوازیں منسوب ہوتی ہیں۔ گاڑی جب پٹری پر دوڑتی ہے تو اس کی رفتار کے مطابق مختلف آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ اگر کسی وجہ سے یہ آوازیں ہلکی پڑ جائیں، ان میں تعطل آجائے یا ان کا انداز اور درمیانی وقفہ بدل جائے تو مسافر لمحے بھر کو چونک ضرور جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی، پختونخوا حکومت نے 8 نام ارسال کردیئے
سابقہ تجربات
اب تو قصہ پارینہ ہوا، جب دھکانی انجن چلتے تھے تو اس کی اپنی ایک مسحور کن آواز ہوا کرتی تھی۔ سب سے پہلے تو مسلسل ہلکی ہلکی خارج ہوتی ہوئی بھاپ کی سرسراہٹ سنائی دیتی تھی۔
ختم ہوا سفر
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








