افغان طالبان کا وفد پاکستان کے مطالبات کو پوری طرح تسلیم کرنے کو تیار نہیں، ذرائع
پاکستان کے مطالبات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے منطقی اور مدلل مطالبات جائز ہیں لیکن افغان طالبان کا وفد ان مطالبات کو پوری طرح تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے ساتھ عام شہری بھی شامل ہوجاتے، بسکٹ، پکوڑے، چپس بنوا کر لاتے اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے فوجیوں کا آتے جاتے استقبال کرتے
مذاکرات کا ڈیڈ لاک
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار ہے، استنبول میں جاری مذاکرات کا تیسرا دن بھی مشکلات کا شکار رہا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں اسرائیل کی حمایت کم ہوئی ہے، امریکا میں سب سے طاقتور لابی یہودی لابی تھی: ڈونلڈ ٹرمپ
افغان وفد کی صورتحال
ذرائع کا کہنا ہے کہ میزبان ممالک بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کے یہ مطالبات معقول اور جائز ہیں، دلچسپ طور پر افغان طالبان کا وفد خود بھی سمجھتا ہے کہ ان مطالبات کو ماننا درست ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بجٹ آج، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی توقع
کابل انتظامیہ کے احکامات
افغان طالبان کا وفد بار بار کابل انتظامیہ سے رابطہ کر کے انہی کے احکامات کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے، یہ کہنا بجا ہوگا کہ انہیں کابل سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور کار میلہ جلد آ رہا ہے، ابھی خود کو رجسٹر کریں!
مفاد کی وضاحت
ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے بارہا یہ نکتہ واضح کیا ہے کہ ان مطالبات کو تسلیم کرنا سب کے مفاد میں ہے، میزبان ممالک نے بھی افغان وفد کو یہی بات سمجھائی ہے تاہم کابل انتظامیہ سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں آ رہا، جس سے تعطل پیدا ہو رہا ہے۔
کچھ عناصر کا ایجنڈا
یوں لگتا ہے کہ کابل میں کچھ عناصر کسی اور ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستانی وفد کا مؤقف بدستور منطقی، مضبوط اور امن کے لیے ناگزیر ہے۔








