افغان طالبان کا وفد پاکستان کے مطالبات کو پوری طرح تسلیم کرنے کو تیار نہیں، ذرائع
پاکستان کے مطالبات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے منطقی اور مدلل مطالبات جائز ہیں لیکن افغان طالبان کا وفد ان مطالبات کو پوری طرح تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں جرگے کے حکم پر لڑکی کے قتل کیس میں اہم پیشرفت، تمام 9 ملزمان قصور وار قرار
مذاکرات کا ڈیڈ لاک
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار ہے، استنبول میں جاری مذاکرات کا تیسرا دن بھی مشکلات کا شکار رہا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے اہم رہنما کو جیل سے رہائی کے بعد پھر گرفتار کر لیا گیا
افغان وفد کی صورتحال
ذرائع کا کہنا ہے کہ میزبان ممالک بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کے یہ مطالبات معقول اور جائز ہیں، دلچسپ طور پر افغان طالبان کا وفد خود بھی سمجھتا ہے کہ ان مطالبات کو ماننا درست ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی یہودیوں کی اکثریت کملا ہیرس کی حمایتی نکلی
کابل انتظامیہ کے احکامات
افغان طالبان کا وفد بار بار کابل انتظامیہ سے رابطہ کر کے انہی کے احکامات کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے، یہ کہنا بجا ہوگا کہ انہیں کابل سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اب غیر ملکیوں، کرایہ داروں، گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کیسے ہوگی؟ اہم خبرآ گئی۔
مفاد کی وضاحت
ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے بارہا یہ نکتہ واضح کیا ہے کہ ان مطالبات کو تسلیم کرنا سب کے مفاد میں ہے، میزبان ممالک نے بھی افغان وفد کو یہی بات سمجھائی ہے تاہم کابل انتظامیہ سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں آ رہا، جس سے تعطل پیدا ہو رہا ہے۔
کچھ عناصر کا ایجنڈا
یوں لگتا ہے کہ کابل میں کچھ عناصر کسی اور ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستانی وفد کا مؤقف بدستور منطقی، مضبوط اور امن کے لیے ناگزیر ہے۔








