پنجاب بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ترمیمی) آرڈیننس 2025 تیار
پنجاب حکومت کا تعلیمی اصلاحات پر نئے آرڈیننس کا خاکہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب حکومت نے پنجاب بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ترمیمی) آرڈیننس 2025 تیار کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں چین نے انتہائی اہم کردار ادا کیا: وزیر اعظم
اختیارات کی تبدیلیاں
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق حکومت نے پنجاب بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں اختیارات کی تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب اسمبلی سے پنجاب بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ترمیمی) آرڈیننس 2025 منظور کرایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: نجی کالج کے مغوی سی ای او کو اغواء کاروں نے رہا کردیا
نئے انتظامی اختیارات
آرڈیننس میں چیف منسٹر کو گورنمنٹ کی جگہ بورڈز کا سربراہ کنٹرولنگ اتھارٹی قرار دیا گیا ہے۔ اب تعلیمی بورڈز کے خالی عہدے نجی شعبے سے بھی پُر کیے جا سکیں گے، اور آرڈیننس کے تحت نجی شعبہ بھی اہل قرار ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان متحدہ عرب امارات کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے، وزیراعظم
تقرریوں کے نئے معیارات
ترمیمی مسودے کے مطابق کنٹرولنگ اتھارٹی کی منظوری سے تعلیمی بورڈز میں تقرری ممکن ہوگی۔ ایکٹ 1976 کی شق 12 میں ترمیم کر کے "دیگر بورڈ" کے بعد نجی سیکٹر کا ذکر شامل کیا گیا ہے، اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو کنٹرولنگ اتھارٹی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، مائی کولاچی لرزہ خیز قتل کی واردات میں ملوث گرفتار مرکزی ملزم کے تہلکہ خیز انکشافات
کارکردگی اور نظم و ضبط کے اصول
سیکشن 20 میں ترمیم کر کے بورڈ کے ملازمین کی کارکردگی اور نظم و ضبط کے نئے اصول شامل کیے گئے ہیں۔ افسران اور ملازمین کی کارکردگی و نظم و ضبط کی نئی ذیلی شق (bb) شامل کی گئی ہے، اور ترمیمی آرڈیننس کے تحت خالی آسامیوں پر فوری تقرری کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: 24 نومبر کو کوئی رہائی نہیں ہو رہی، سینیٹر فیصل واوڈا
مقصد اور اثرات
آرڈیننس کا مقصد تعلیمی بورڈز کے کام کو مؤثر، تیز اور شفاف بنانا ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق بورڈز میں کئی کلیدی عہدے خالی ہونے سے امور متاثر ہورہے تھے، اور اب نجی شعبے سے تقرری کے ذریعے خالی آسامیوں کو پر کیا جائے گا۔
فوری عملدرآمد
آرڈیننس کے تحت ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بورڈز کے نظم و نسق اور کارکردگی کا براہِ راست اختیار دے دیا گیا ہے۔ پنجاب اسمبلی منظوری کے بعد آرڈیننس فوراً نافذالعمل ہوگا، اور یہ پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز پر لاگو ہوگا۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے 1976 کے ایکٹ میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔








