صوبے کے وزیراعلیٰ کی ڈیمانڈ اگر غیر قانونی ہو تو کیا اسے پورا کیا جانا چاہیئے ؟ جواب ہے نہیں،صحافی حسن ایوب خان
سینئر صحافی کا بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی حسن ایوب خان کا کہنا ہے کہ صوبے کے وزیراعلیٰ کی ڈیمانڈ اگر غیر قانونی ہو تو کیا اسے پورا کیا جانا چاہیئے؟ جواب ہے نہیں۔ اس لیے ایک نااہل اور عدالتی سزاء یافتہ مجرم سے صوبائی کابینہ کی تشکیل کے لیے مشاورت کی اجازت قانون اور عدالتی فیصلے نہیں دیتے۔ لہذا سہیل آفریدی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور عشق عمران کا امتحان جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں رکھنے میں کامیاب ہوگئی ہے، فیصل واوڈا کا مخصوص نشستوں کے فیصلے پر رد عمل
وزیر اعلیٰ کا مؤقف
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے لکھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا یہ مسلسل مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ صوبائی کابینہ کی تشکیل بانی پی ٹی آئی کی مشاورت سے ہوگی، مگر آئین کے مطابق ایک سزا یافتہ شخص کسی حکومتی یا سیاسی فیصلے کا مجاز نہیں۔ یہ آئین و قانون کی صریح مخالفت ہے۔ سپریم کورٹ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ سزا یافتہ شخص کے فیصلے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں 2300 روپے اضافہ
نواز شریف کی مثال
حسن ایوب خان نے مزید لکھا کہ ماضی میں نواز شریف کی جیل سے ٹکٹ دینے کی کوشش بھی عدالتی فیصلے کے ذریعے کالعدم قرار دی گئی تھی۔ اصول ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ آئین سب پر بالا ہے، خواہ نام نیازی ہو یا شریف۔ اگر پی ٹی آئی واقعی “نیازی لاء” پر عمل کرنا چاہتی ہے، تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ پارٹی کے منتخب نمائندوں اور وزراء کی آئینی حیثیت باقی کیا رہ جاتی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: مقتولہ بانو کا شوہر اور والد قتل کے خلاف تھے، وہ احسان کی بلیک میلنگ کا شکار تھی: حامد میر کا انکشاف
پی ٹی آئی کا آئینی موقف
پی ٹی آئی کے اپنے منشور میں “بانی” کا کوئی تصور موجود نہیں۔ پارٹی صرف چیئرمین کے عہدے کو فیصلہ سازی کا مجاز تسلیم کرتی ہے۔ تو پھر وزیراعلیٰ کا بار بار “بانی کی ہدایت” کا ذکر کرنا پارٹی آئین اور سیاسی اخلاقیات، دونوں کی نفی ہے۔ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ اپنی آئینی صوابدید کے مطابق کابینہ تشکیل دے جو اس کے اپنے فہم، شعور اور ذمہ داری کا عکس ہو، نہ کہ ایک سزا یافتہ شخص کی مرضی کا۔ آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا خیبرپختونخوا کی سیاست آئین کے تابع ہوگی یا “نیازی لاء” کے تحت ایک سزا یافتہ مجرم کے؟
سوشل میڈیا پر رد عمل
صوبے کے وزیراعلی کی ڈیمانڈ اگر غیر قانونی ہو تو کیا اسے پورا کیا جانا چاہیئے؟ جواب ہے نہیں اس لئے ایک نااہل اور عدالتی سزاء یافتہ مجرم سے صوبائی کابینہ کی تشکیل کے لئے مشاورت کی اجازت قانون اور عدالتی فیصلے نہیں دیتے۔ لہذا سہیل آفریدی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور عشق…
— حسن ایوب خان (@HassanAyub82) October 28, 2025








