سوڈان میں غیر عرب باشندوں کی نسل کشی، الفاشر میں آر ایس ایف کے ہاتھوں 2 ہزار شہریوں کا قتل عام
سوڈان میں نسلی بنیادوں پر قتلِ عام
خرطوم (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوڈان کے مغربی شہر الفاشر میں ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) پر نسلی بنیادوں پر بڑے پیمانے پر قتلِ عام کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ فوج کے حامی گروپ جوائنٹ فورسز کے مطابق، آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے 26 اور 27 اکتوبر کو شہر میں کارروائی کرتے ہوئے دو ہزار سے زائد بے گناہ شہریوں کو قتل کیا، جن میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیا
اقلیتی قبائل کے خلاف تشدد
ژیل یونیورسٹی کے ہیومینیٹیرین ریسرچ لیب نے تصدیق کی ہے کہ شہر میں غیر عرب اقلیتی قبائل بالخصوص فور، زغاوہ اور برتی، کے خلاف منظم نسلی صفایا جاری ہے، جس میں لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا جا رہا ہے اور گھر گھر جا کر قتل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپین میں سوشل میڈیا کے ذریعے انتہائی خطرناک جانور بیچنے والا جوڑا گرفتار
اقوامِ متحدہ کا انتباہ
العربیہ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ ولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ الفاشر میں نسلی بنیادوں پر مظالم اور اجتماعی قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے ای چالان کے نام پر شہریوں کو لوٹنے والی 100 سے زائد جعلی ویب سائٹس بلاک کروا دیں
بدترین تشدد کی تصویریں
مقامی کارکنوں کے مطابق، آر ایس ایف نے شہر پر قبضے کے بعد شہریوں پر بدترین تشدد اور اجتماعی قتل کیے۔ ایک ویڈیو میں آر ایس ایف کے ایک جنگجو کو غیر مسلح شہریوں پر قریب سے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
پچھلے واقعات
یاد رہے کہ آر ایس ایف اس سے قبل بھی الجنینہ میں 15 ہزار سے زائد غیر عرب شہریوں کے قتل میں ملوث رہ چکی ہے۔








