لیبیا میں تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، 18 ہلاک، 12 پاکستانیوں کو بچا لیا گیا

تارکینِ وطن کی کشتی کا حادثہ

طرابلس (ڈیلی پاکستان آن لائن) لیبیا کے ساحلِ سرمان کے قریب تارکینِ وطن کی ایک لکڑی کی کشتی الٹنے سے 18 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ 90 افراد کو بچا لیا گیا جن میں 12 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: طویل عرصے بعد ملاقات پر عمران خان نے گلے لگایا اور بوسہ لیا، شیخ رشید کا بیان

حادثے کی تفصیلات

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ہجرت (IOM) کے مطابق کشتی روانگی کے چند گھنٹوں بعد ہی تیز لہروں کے باعث الٹ گئی۔

بچ جانے والوں میں 29 سوڈانی مرد، ایک سوڈانی خاتون اور ایک بچہ، 18 بنگلہ دیشی مرد، 12 پاکستانی مرد اور 3 صومالی شہری شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی قومیت تاحال معلوم نہیں ہو سکی。

یہ بھی پڑھیں: سپین میں بزرگ خواتین اور ان کے معذور بھائی کا قتل کیس، پاکستانی شہری کو 36 سال قید سنا دی گئی۔

بین الاقوامی ادارے کی تشویش

آئی او ایم نے اسے “بحیرہ روم کے خطرناک ترین راستے” پر پیش آنے والا ایک اور المناک واقعہ قرار دیا، جو شمالی افریقہ سے یورپ جانے والے تارکین وطن کی جانیں نگل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کون ہوگا امریکہ کا نیا صدر؟ ٹرمپ اور کملا میں کانٹے کا مقابلہ

ہلاکتوں کی تعداد

ادارے کے مطابق رواں سال اب تک 1,046 افراد اس راستے پر ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں، جن میں 527 اموات لیبیا کے ساحل کے قریب رپورٹ ہوئیں۔

گذشتہ ہفتے تیونس کے قریب ایک اور کشتی حادثے میں 40 افریقی تارکین وطن جاں بحق ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹریفک پولیس اہلکار کو مارنے اور خوف و ہراس پھیلانے کا کیس، ملزم درخواست ضمانت خارج

بچاؤ کی کوششیں

آئی او ایم کا کہنا ہے کہ وہ مقامی اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ افراد کو طبی امداد اور ضروری سہولیات فراہم کر رہی ہے، اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ “بحرِ روم میں مزید انسانی المیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔”

سماجی میڈیا کا ردعمل

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...