لیبیا میں تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، 18 ہلاک، 12 پاکستانیوں کو بچا لیا گیا
تارکینِ وطن کی کشتی کا حادثہ
طرابلس (ڈیلی پاکستان آن لائن) لیبیا کے ساحلِ سرمان کے قریب تارکینِ وطن کی ایک لکڑی کی کشتی الٹنے سے 18 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ 90 افراد کو بچا لیا گیا جن میں 12 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج میں پاکستانی عسکری قیادت کو قتل کی دھمکیاں دینے کی وڈیوز وائرل، حکومت برطانیہ سے کارروائی کا مطالبہ
حادثے کی تفصیلات
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ہجرت (IOM) کے مطابق کشتی روانگی کے چند گھنٹوں بعد ہی تیز لہروں کے باعث الٹ گئی۔
بچ جانے والوں میں 29 سوڈانی مرد، ایک سوڈانی خاتون اور ایک بچہ، 18 بنگلہ دیشی مرد، 12 پاکستانی مرد اور 3 صومالی شہری شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی قومیت تاحال معلوم نہیں ہو سکی。
یہ بھی پڑھیں: یہ بالکل غلط ہے جو احتجاج میں شریک نہیں ان کو کیسے اٹھا سکتے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ پولیس پر برہم
بین الاقوامی ادارے کی تشویش
آئی او ایم نے اسے “بحیرہ روم کے خطرناک ترین راستے” پر پیش آنے والا ایک اور المناک واقعہ قرار دیا، جو شمالی افریقہ سے یورپ جانے والے تارکین وطن کی جانیں نگل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماہا حسن کا بچپن میں ہراساں کیے جانے کا انکشاف
ہلاکتوں کی تعداد
ادارے کے مطابق رواں سال اب تک 1,046 افراد اس راستے پر ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں، جن میں 527 اموات لیبیا کے ساحل کے قریب رپورٹ ہوئیں۔
گذشتہ ہفتے تیونس کے قریب ایک اور کشتی حادثے میں 40 افریقی تارکین وطن جاں بحق ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر امریکی حملوں کے بعد سعودی عرب کے ماحول میں تابکاری کے آثار نہیں ملے،سعودی جوہری ریگولیٹر
بچاؤ کی کوششیں
آئی او ایم کا کہنا ہے کہ وہ مقامی اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ افراد کو طبی امداد اور ضروری سہولیات فراہم کر رہی ہے، اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ “بحرِ روم میں مزید انسانی المیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔”
سماجی میڈیا کا ردعمل
This is a migrant boat that arrived on the coast of Spain earlier in the summer.
Good to see the holidaymakers taking the law into their own hands and giving the invaders a warm welcome.
Europe is waking up finally!
They arrived from Morocco, what war is happening in Morocco? pic.twitter.com/DnuE6ZiP1D
— Benonwine (@benonwine) October 8, 2025








