خواتین افسران میں کرپشن کا رجحان
خواتین افسران میں مالی کرپشن
خواتین افسران میں مالی کرپشن کا ریٹ اور رجحان مرد افسران سے کہیں زیادہ ہے۔ خواتین افسران کی معزز شہریوں کے ساتھ بدتمیزی اور تحقیر آمیز رویہ عام ہے جبکہ اپنے ماتحت افسران اور سٹاف کے ساتھ بھی انتہائی ہتک آمیز سلوک کی ان گنت مثالیں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے شکست پر بہت باتیں ہو رہی ہیں، ہمارا فوکس ایک میچ پر نہیں، ورلڈکپ جیتنے پر ہے، شاداب خان
عمومی رائے اور بدعنوانی
خواتین افسران کے بارے میں عمومی رائے ہے کہ یہ مسائل کا حل کرنے کے بجائے "ٹربل میکرز" کا کردار ادا کرتی ہیں۔ بڑی تعداد میں خواتین افسران کمائی والی سیٹوں پر منشی بن کر پیسے اکٹھے کرتی ہیں اور آگے تک پہنچاتی ہیں۔ تاہم، ان کی اکثریت آج بھی سرکاری نوکری کو عزت اور رزق حلال کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر دنیا نے فیصلہ کن اقدام نہ کیا تو یہ اسرائیل کے جرائم میں شریک سمجھی جائے گی، شاہ عبداللہ دوم
کرپشن کی رفتار
خواتین افسران میں سے تقریباً 30 سے 35 فیصد نے کرپشن کا راستہ اختیار کیا ہوا ہے۔ جبکہ 3 سے 4 فیصد کی بہت محدود تعداد بیوروکریٹک پارٹی گروپ جوائن کرچکی ہے۔ بہت سی جگہوں پر دیکھا گیا ہے کہ اگر خواتین افسران اے سی، اے ڈی سی آر یا ڈی سی ہیں تو ان کا ہیڈ کلرک "سیٹ" چلا رہا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا این اے 251 کا فیصلہ، خوشحال خان خٹک کامیاب قرار
بدعنوانی کی مثالیں
ایک خاتون افسر نے اپنے بیج میٹ سے جلدی کام کرنے کے پیسے مانگ لئے اور احسان بھی جتلایا۔ اسی طرح ایک اتھارٹی کی سربراہ خاتون افسر نے ایک کام کے چالیس لاکھ روپے مانگے۔ ایسے مواقع پر اعلیٰ افسران تک شکایت بھی پہنچتی ہے، لیکن ان کا موقف ہمیشہ مضبوط رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ جنگ سے متعلق ٹرمپ فارمولا قابلِ غور ہو سکتا ہے لیکن وزیراعظم کا یکطرفہ اعلان سفارتی آداب کے منافی ہے، فواد چودھری
کاروباری تعلقات
بہت سی خواتین افسران کے شوہر اپنے بیویوں کے سرکاری دفاتر میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ دبنگ افسران کو مشہور کیا جاتا ہے کہ وہ کسی کی بات نہیں سنتیں، اور ان کا سارا لین دین مخصوص چھوٹے ملازم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انیل امبانی گروپ کے اثاثے منجمد، کیا الزامات ہیں؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
ترقی کی رفتار اور پریشانیاں
خوش آئند بات یہ ہے کہ خواتین افسران میں سے بمشکل 3 سے 4 فیصد نے اس راستے کو اپنایا ہے، لیکن پارٹی گروپ والی افسران کی ترقی کی رفتار باقیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ وہ نہ صرف خود پارٹی گروپ جوائن کرتی ہیں بلکہ دیگر خواتین افسران کو بھی جوائن کروانے کی پیشکش کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میری نظر 6/6 نہیں، نظر 6/6 بھی ہوتی تب بھی دور سے پڑھنا ممکن نہیں، جسٹس عامر فاروق
مرد و زن کا رویہ
فرسٹ جنریشن خواتین افسران خود کو ماورائی مخلوق سمجھتی ہیں، جبکہ ماتحت عملے اور معزز شہریوں سے بدتمیزی کو اپنا حق سمجھتی ہیں۔ میرٹ پر کام کرنے والی خواتین کو اکثر غیر مطلوبہ پوسٹنگز دی جاتی ہیں۔
بچنے کی ضرورت
ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین افسران کی کپیسٹی بلڈنگ، پبلک ریلیشنز اور نفسیاتی تربیت پر توجہ دی جائے۔ خواتین افسران کو مشرقی معاشرے میں خواتین کے احترام کا خیال رکھنا چاہئے، نہ کہ ہر برائی کا دفاع "خاتون کارڈ" کے ذریعے کریں۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔








