امریکہ میں حکومتی شٹ ڈاؤن سے معیشت کو 7 ارب ڈالر ماہانہ کا ناقابل تلافی نقصان
معاشی نقصان کی تشخیص
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کی تازہ غیرجانبدارانہ رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن سے معیشت کو ہر ماہ تقریباً 7 ارب ڈالر کا ناقابلِ تلافی نقصان ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آج پوری قوم متحدہ طور پر اپنی مسلح افواج کی پشت پرہے اور وہ پاکستان کے دفاع اور سلامتی کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے
شٹ ڈاؤن کی ممکنہ مدت
این بی سی نیوز کے مطابق یہ رپورٹ ہاؤس بجٹ کمیٹی کے چیئرمین جیوڈی ایرنگٹن (ریپبلکن، ٹیکساس) کو بھیجے گئے ایک خط میں پیش کی گئی، جس میں شٹ ڈاؤن کی مختلف ممکنہ مدتوں کے حوالے سے اندازے دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف اور امریکی صدر کی ملاقات آج ہو گی، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کر دی
نقصان کی تفصیلات
رپورٹ کے مطابق اگر شٹ ڈاؤن چار ہفتے جاری رہتا ہے تو امریکی معیشت (GDP) میں 7 ارب ڈالر کی کمی ہوگی۔ چھ ہفتے کے شٹ ڈاؤن سے 11 ارب ڈالر کا نقصان متوقع ہے اور اگر یہ آٹھ ہفتے تک بڑھ گیا تو 14 ارب ڈالر کی کمی واقع ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات عطا ءتارڑ نے افغان طالبان کے خلاف جاری ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کی تفصیلات جاری کردیں
حکومت کی مالی صورت حال
سی بی او نے لکھا "اگرچہ شٹ ڈاؤن ختم ہونے کے بعد جی ڈی پی وقتی طور پر معمول سے کچھ زیادہ ہو جائے گی، لیکن مجموعی طور پر 7 سے 14 ارب ڈالر کا نقصان کبھی پورا نہیں ہوگا۔"
سرکاری ملازمین اور اخراجات
رپورٹ کے مطابق شٹ ڈاؤن کے دوران اشیاء اور خدمات پر خرچ میں نمایاں کمی آئے گی کیونکہ 10 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ تاہم، حکومت کھلنے کے بعد یہ خرچ عارضی طور پر دوبارہ بڑھ جائے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ شٹ ڈاؤن جتنا طویل ہو گا، اس کے منفی معاشی اثرات اتنے ہی شدید ہوں گے۔








