ترکیہ کی درخواست، پاکستان طالبان سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامند
افغان طالبان سے مذاکرات کی نئی شروعات
استنبول(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میزبان ملک ترکیہ کی درخواست پر افغان طالبان سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامند ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی میں ٹرین اسٹیشن پر چاقو حملے میں 12 افراد زخمی، خاتون گرفتار
مذاکرات کی دوبارہ صورتحال
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ استنبول سے پاکستانی وفد مذاکرات میں ناکامی کے بعد آج واپس روانہ ہونے والا تھا مگر میزبانوں کی درخواست پر طالبان سے مذاکرات کے لیے اب استنبول میں مزید قیام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وقت آگیا ہے سب مل کر خیبرپختونخوا کو ترقی اور خوشحالی کا مرکز بنائیں، فیصل کریم کنڈی
امن کی کوششیں
ذرائع نے بتایا کہ مذاکراتی عمل کو دوبارہ جاری رکھ کر امن کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مذاکرات پاکستان کے اُسی مرکزی مطالبے پر ہوں گے کہ افغانستان دہشت گردوں کے خلاف واضح، قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی کرے۔
یہ بھی پڑھیں: فلپائنی شہری کی امارات میں اتنی بڑی لاٹری نکل آئی کہ زندگی ہی تبدیل ہوگئی
پاکستان کی مطالبات
ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: انسانیت کے دشمنوں نے الطاف حسین بھائی کے بارے میں افواہیں پھیلائیں، مصطفیٰ عزیز آبادی
سفارتی رابطے
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکام نے بھی مذاکرات کے حوالے سے سفارتی سطح پر رابطے کیے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ بحال ہو رہے ہیں، ترکیہ چاہتا ہے کہ اس کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کی میچ ریفری کو نہ ہٹائے جانے پر ایشیا کپ کے بائیکاٹ کی دھمکی
پچھلے مذاکرات کا پس منظر
واضح رہے کہ استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے چار طویل ادوار ہوئے مگر طالبان کے مؤقف میں تبدیلی رکاوٹ بنی رہی، طالبان وفد کا کابل انتظامیہ سے رابطے کے بعد مؤقف تبدیل ہوجاتا، ایسے لگتا جیسے کابل انتظامیہ کو کہیں اور سے کنٹرول کیا جا رہا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترامیم منظور کی نہیں گئیں، منظور کرائی گئی ہیں،اخترمینگل
ثالثوں کا کردار
ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں طالبان وفد نے پاکستان کے جائز مطالبات کو ثالثوں کے سامنے تسلیم کیا مگر کابل انتظامیہ سے رابطہ ہوتے ہی وہ مؤقف تبدیل کر لیا، ثالثوں نے بھی پاکستان کے مطالبات کو جائز قرار دیا تھا۔
دوحہ مذاکرات کی یادیں
اس سے پہلے دوحہ میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے اور جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا جبکہ یہ بھی طے پایا تھا کہ استنبول مذاکرات میں دہشت گردی کی روک تھام اور نگرانی کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا.








