افغان شہری کو پاکستانی شہریت دینے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے افغان شہری کو پاکستانی خاتون سے شادی کی بنیاد پر پاکستانی شہریت دینے کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کا کوہلو میں آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 5 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق افغان شہری کو پاکستان اوریجن کارڈ کے اجراء کے معاملے کی سماعت جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: دورۂ استنبول؛ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کی عالمی دفاعی نمائش میں شرکت، اہم ملاقاتیں
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا مؤقف
ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد اللہ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ یکم دسمبر 2023 کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق نے اپیل دائر کر رکھی ہے، ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اگر کوئی مرد افغان شہری پاکستانی خاتون سے شادی کرے تو اسے پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) اور شہریت دی جائے، تاہم حکومت کو شہریت دینے والے حصے پر اعتراض ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ، آج افغانستان اور بنگلہ دیش مدمقابل، گروپ بی کی دلچسپ صورتحال
عدالت کا استفسار
جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ شہریت کس بنیاد پر دی جا سکتی ہے اور کل کتنے درخواست گزار ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اب تک 117 درخواست گزار سامنے آئے ہیں، جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ یہ تو وہ ہیں جو سامنے آگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت سے اتحاد کے خاتمے کا مطالبہ، پیپلزپارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
نادرا کا مؤقف
وکیل نادرا نے مؤقف اپنایا کہ پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے افغان شہری کے لیے ویلڈ ویزا کی شرط بھی ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کوئی شخص دیوار پھلانگ کر آیا یا دروازے سے داخل ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم دیوار میں انگلی سے سوراخ کرنے کے عادی لوگ ہیں، میں نے کہا ”پبلک سروس کمیشن کا امتحان دیکر یہاں پہنچا ہوں، آئندہ گفتگو میں محتاط رہیے گا“۔
مزید کارروائی
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں توہین عدالت کی درخواستیں بھی دائر کی جا رہی ہیں۔
کیس کی مزید سماعت
سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا اور کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔








