پاکستان میں شمسی توانائی کا استعمال تاریخی سنگ میل عبور کرگیا
شمسی توانائی کا تاریخی سنگ میل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں شمسی توانائی کا استعمال تاریخی سنگ میل عبور کر گیا۔ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار اکویٹ ایبل ڈیولپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق، ملک کے موسم گرما کے دوران قومی گرڈ سے بجلی کا حصول 28 سے 30 گیگا واٹ رہا جبکہ صارفین نے قومی گرڈ کے مقابلے میں 33 گیگا واٹ شمسی توانائی کی صلاحیت کو استعمال کرکے بجلی استعمال کی۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر جنرل شیخ محمد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ کی ملاقات
شمسی پینلز کی درآمدات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی کے پینلز 50 گیگا واٹ تک درآمد کیے گئے، جبکہ قومی بجلی گرڈ کی کل نصب شدہ صلاحیت تقریباً 46 گیگا واٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گڈ گورننس کا راستہ میرٹ پر بھرتی سے ہو کر گزرتا ہے، اپنے وعدے پر قائم ہوں بلوچستان کے لوگوں کی کوئی نوکری بیچنے نہیں دوں گا، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
صوبہ بندی میں مقام
رپورٹ کے مطابق صوبوں میں پنجاب شمسی توانائی کے استعمال میں سرفہرست رہا ہے، جبکہ سندھ کا دوسرا، خیبر پختونخوا کا تیسرا، اور بلوچستان کا چوتھا نمبر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر نے کراچی میں جعلی ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپس والی چینی کی 1800 بوریاں ضبط کرلیں
شعبہ جاتی استعمال
شمسی توانائی کے استعمال میں رہائشی شعبہ 16.66 گیگا واٹ کے استعمال کے ساتھ سب سے آگے ہے، جبکہ تجارتی شعبہ 3.73 گیگا واٹ، صنعتی شعبہ 7.91 گیگا واٹ، اور زرعی شعبے میں 5.04 گیگا واٹ شمسی توانائی کا استعمال ہو رہا ہے۔
صارفین کا انحصار
رپورٹ کے مطابق توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 77 فیصد صارفین اپنے شمسی نظام پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ نیشنل گرڈ سے بجلی کے حصول کے لیے 23 فیصد صارفین انحصار کر رہے ہیں۔








