چین کبھی بھی کسی ملک کو چیلنج کرنے یا اس کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اپنے کام کو بہتر کرنے پر توجہ دیتا ہے، چینی صدر
چینی صدر کا اعلامیہ
سیول (ویب ڈیسک) چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو بدلہ لینے کے خطرناک چکر میں نہیں پڑنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کہاں ہوا؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
اقتصادی اور تجارتی مذاکرات
چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے دورے کے دوران چین اور امریکی اقتصادی، تجارتی ٹیموں نے تفصیلی گفتگو کی اور مسائل کے حل پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر امریکی اور چینی صدور نے بات چیت برقرار رکھنے اور توانائی و تجارت میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس میں جج بھی پریشان ہے کہ کیسے سزا سنائے کیونکہ گواہ تو جھوٹے ثابت ہو گئے تھے، علیمہ خان
چین کی معیشت پر چینی صدر کا خیالات
چینی صدر کا کہنا ہے کہ چین پُراعتماد ہے، چین کی معیشت ایک سمندر کی طرح ہے، چین ہر قسم کے خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے، چین کبھی بھی کسی ملک کو چیلنج کرنے یا اس کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اپنے کام کو بہتر کرنے پر توجہ دیتا ہے۔ بات چیت محاذ آرائی سے بہتر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نجی شعبے میں غیر ملکی کمپنیوں کی کتنی سرمایہ کاری ہے۔۔؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
چین اور امریکا کے تعلقات
انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات مجموعی طور پر مستحکم ہیں۔ چین اور امریکا دونوں کی ٹیموں کو بات چیت پر فالو اپ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین اور امریکا کے تعلقات کو وسعت دینے کے لیے تجارت اور معیشت کو بنیادی عنصر ہونا چاہیے۔ تجارتی تعلقات کو چین امریکا دوستی کی بنیاد ہونا چاہیے۔
تعاون کی ضرورت
چینی صدر نے مزید کہا کہ چین اور امریکا کے تعلقات میں توازن کے لیے تجارتی مراسم محور ہونا چاہئیں۔ دونوں ممالک کو تعاون کے طویل مدتی مفاد پر نظر رکھنی چاہیے، دونوں ممالک کو مسائل کم اور تعاون بڑھانا چاہیے۔ غیر قانونی امیگریشن روکنے پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے مثبت رجحانات ہیں۔ دونوں ممالک ٹیلی کام فراڈ، اے آئی، منی لانڈرنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔








