لاہور کے بڑے سرکاری ہسپتال میں شرمناک واقعہ، غیر تربیت یافتہ اور غیر متعلقہ شخص کے ہاتھوں خاتون کا پوسٹمارٹم
شرمناک واقعہ جنرل ہسپتال لاہور
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) جنرل ہسپتال میں شرمناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں غیر ملازم مرد کے ہاتھوں خاتون کا پوسٹمارٹم کیا گیا ۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلویز کے فریٹ سیکٹر کی ریکارڈ آمدن، 6 ماہ میں 17 ارب کی کمائی
بدعنوانی اور بدنظمی کی علامات
ڈان نیوز کے مطابق جنرل ہسپتال میں بدعنوانی، بدنظمی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔ پوسٹ مارٹم کے حساس عمل کے لیے غیر متعلقہ شخص کو مرد اور خواتین کی لاشوں کا معائنہ اور پوسٹمارٹم کرنے پر لگا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان کا سینیٹ انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ، امیدوار کو ٹکٹ بھی جاری
غیر قانونی سرگرمیاں
ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں ہیلپر خاتون کا پوسٹمارٹم کر رہے ہیں جبکہ خاتون کی لاش کو ٹانکے لگانے والا شخص نہ ڈاکٹر ہے اور نہ ہی جنرل ہسپتال کا ملازم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوات میں جانی نقصان کے بعد پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے الرٹ جاری کردیا
دوہری ملازمت کا الزام
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر دوہری ملازمت میں مصروف ہیں، جنہوں نے ہیلپر کو پیسوں پر اپنی جگہ کام پر رکھا ہوا ہے۔
حکام کا نوٹس
ڈان نیوز کی خبر پر پرنسپل جنرل ہسپتال نے انکوائری ٹیم تشکیل دے دی جب کہ صوبائی وزیر صحت نے بھی واقعے کا نوٹس لے لیا۔








