مولانا فضل الرحمان نے مریم نواز کی جانب سے ائمہ کرام کو 10 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دینے کے فیصلے کو مسترد کر دیا
مولانا فضل الرحمان کا مؤقف
چنیوٹ (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مریم نواز کی جانب سے ائمہ کرام کو 10 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دینے کے فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹر فیصل واوڈا پارلیمنٹ ہاؤس مٹھائی کی ٹوکری لے کر آ گئے۔
ختم نبوت کانفرنس میں خطاب
چناب نگر میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا، "ہمیں توقع تھی کہ شاید پی ڈی ایم کے تجربے کے بعد مسلم لیگ (ن) کچھ سمجھداری دکھائے گی، مگر آج وہ ہماری مساجد کے ائمہ کو صرف دس ہزار روپے دے کر خریدنے کی کوشش کر رہی ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: حکومتی فضول خرچیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنا درست طرزِ حکمرانی نہیں، سہیل آفریدی
ائمہ کی خودداری کا دفاع
مولانا نے مزید کہا کہ "محترمہ! یہ تجربہ خیبرپختونخوا میں پہلے بھی ناکام ہو چکا ہے۔ میں اسٹیج سے اعلان کرتا ہوں کہ میں یہ دس ہزار روپے آپ کے منہ پر مارتا ہوں، کیونکہ ہمارے ائمہ، خطباء، اور اساتذہ کی اصل پہچان ان کی غیرت اور خودداری ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: جاپانی وزیر زراعت نے ایسی بات پر معافی مانگ کر استعفیٰ دے دیا جو اکثر ملکوں میں اتنی بڑی بات ہی نہیں سمجھی جاتی
ہمارا تعلیمی نظام
انہوں نے کہا کہ "ہمارے مدارس، اساتذہ، مہتممین، طلبہ، مساجد اور ائمہ سب اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں، جو کسی حکومتی امداد یا سرپرستی کی محتاج نہیں۔ ہم نے ہمیشہ اپنا دینی و تعلیمی نظام بغیر سرکاری پیسے اور مداخلت کے چلایا ہے، اور ان شاءاللہ آئندہ بھی اسی طرح چلائیں گے۔"
دینی مدارس کی خود مختاری
مولانا فضل الرحمان نے واضح اعلان کیا کہ دینی مدارس کے معاملات میں کسی قسم کی سیاسی یا سرکاری مداخلت کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔








