لاہور ہائی کورٹ: نجی کار ساز کمپنی کے خلاف مسابقتی کمیشن کی انکوائری درست قرار
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے کار بنانے والی نجی کمپنی کے خلاف مسابقتی کمیشن کی انکوائری درست قرار دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
عدالت میں دلائل
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران نے نجی کمپنی کی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا، مسابقتی کمیشن پاکستان کی جانب سے بیرسٹر اسد اللہ چٹھہ نے عدالت میں دلائل دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: عاقب جاوید کو قومی کرکٹ ٹیم کا عبوری ہیڈ کوچ مقرر کردیا گیا
انکوائری کے اختیار
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مسابقتی کمیشن پاکستان کے پاس معلومات طلب کرنے اور انکوائری شروع کرنے کا مکمل اختیار ہے، کار بنانے والی نجی کمپنی نے 2018 سے 2022 تک کمیشن کی کارروائی میں خود حصہ لیا، مسابقتی کمیشن کی جانب سے جاری نوٹس معلومات کے حصول کے لیے ہیں، حتمی حکم نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دن کے وقت سیاحوں کی آمد و رفت، شام ہوتے ہی سناٹا، کھیت اور کھجوروں کے جھنڈ، فرعونی مجسمے
معلومات کی فراہمی کی ضرورت
فیصلے میں تحریر کیا گیا ہے کہ کمپنی کو چاہئے کہ مطلوبہ معلومات فراہم کرے تاکہ انکوائری مکمل ہو سکے، طویل عرصہ تک انکوائری زیر التوا رکھنا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ لوگ دو پیٹشنر ہیں؟ مطیع اللہ جان کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے پر جسٹس محسن اختر کیانی سے سوال
مسابقتی کمیشن کا مقصد
عدالت نے قرار دیا کہ مسابقتی کمیشن کا مقصد مارکیٹ میں غیر منصفانہ قیمتوں اور مقابلے کی خلاف ورزیوں کی روک تھام ہے، مارکیٹ کی نگرانی کے لیے معلومات کا حصول کوئی غیر قانونی عمل نہیں۔
انکوائری کی مدت
لاہور ہائیکورٹ نے مسابقتی کمیشن پاکستان کو 2018 سے جاری انکوائری چھ ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔








